Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Thursday, November 30, 2017

ﺗﮑﻠﯿﻒ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﯾﮑﻄﺮﻓﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﯾﮟ



ﺗﮑﻠﯿﻒ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﯾﮑﻄﺮﻓﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﯾﮟ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺟﺎﮔﮯ __
ﺗﮑﻠﯿﻒ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭨﮭﮑﺮﺍ ﺩﮮ __
ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﮞ، ﭘﮭﺮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ، ﺁﭖ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎﻣﮯ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﮧ ﮐﮩﮑﺸﺎﮞ ﺑﭩﮭﺎﺋﮯ، ﺁﭖ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﻟﭩﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻥ ﻋﻨﺎﯾﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ، ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﻨﺠﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮐﻮﻧﭙﻠﯿﮟ ﭘﮭﻮﭨﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ، ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺳﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﻟﮯ، ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌﺗﮯ ﮨﯽ ﻭﮦ ﮐﻮﻧﭙﻠﯿﮟ ﯾﮑﺪﻡ ﺩﺭﺧﺖ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺫﺍﺕ ﭘﮧ ﺣﺎﻭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﯾﮧ ﺩﺭﺧﺖ ﺁﮐﭩﻮﭘﺲ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺮﻓﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﮍﺧﻨﮯ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﯿﮟ، ﺁﭖ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺗﮭﻮﮎ ﺩﮮ __
ﯾﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﮑﻠﯿﻒ
ﯾﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺫﯾﺖ
ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﭨﻮﭨﻨﺎ
ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﺮﻧﺎ

Alamgir Shaikh to represent ACBS in IBSF Board

Another feather was added in the cap of Pakistan’s top snooker personality, Alamgir Anwar Shaikh, as he has been nominated to represent the continent of Asia at the Board of the International Billiards & Snooker Federation (IBSF).

Zulfiqar Ali Ramzi, Honorary Secretary, Pakistan Billiards & Snooker Association (PBSA), announced that the decision in this regard was taken in the recent annual general body of the Asian Confederation of Billiards Sports (ACBS) held in Doha, Qatar, on the sidelines of the IBSF World Snooker Championships 2017.

“Alamgir Shaikh, who is the Vice President of the ACBS, has been nominated to represent the continental body at the IBSF Board while Munawwar Hussain Shaikh, President, PBSA, has been appointed as the legal advisor of the ACBS. Both the appointments are great honour for the snooker fraternity of Pakistan,” the PBSA official acknowledged.

In a brief chat, upon his arrival from Doha, where he had gone to attend the ACBS meeting besides watching the World Championship, Alamgir Shaikh, Co-Chairman, PBSA, vowed to continue playing his role more effectively in the further development of cue sports at the global level.

“Indeed there are challenges to be met and I will bring all my expertise into play to promote the cause of cue sports on a larger canvas,” he added.

A recipient of the coveted Pride of Performance award, presented by the President of Pakistan, in recognition to his services in sports administration, he remained upbeat about taking the Pakistan snooker to even higher level in future.

Having served a couple of highly successful tenures of four years each as the President of the PBSA, starting from 2008 to 2016, Alamgir Shaikh, also a member of the Pakistan Sports Board (PSB), expressed the hope that the momentum as well as fresh efforts will continue taking the Pakistan snooker forward in the years to come.

“Cue sports in Pakistan has come a long away in the recent past and our sustained efforts have yielded the results in the form of glories in almost every international event and more importantly we have prepared a crop of youngsters who are geared to move on,” he reckoned.


Tuesday, November 28, 2017

میں نے زندگی میں صرف اک شخص سے نفرت کرنا چاہی






میں نے زندگی میں صرف اک شخص سے نفرت کرنا چاہی جس سے مجھے جان 



سے زیادہ محبت تھی ، نفرت ہوئی بھی مگر باقی رہ نہیں سکی ، وقت کے ساتھ ساتھ محبت بھی ختم ہو گئی اور نفرت بھی....!!







عجب پاگل سا لڑکا ہے




عجب پاگل سا لڑکا ہے!!!
ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﮩﮑﺘﯽ!!
ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﯽ!!
ﮔﻨﮕﻨﺎﺗﯽ!
ﺧﻮﺍﺏ ﺳﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﺭﻧﮕﻮﮞ
ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ﺍﻧﺠﺎﻥ بنتا ﮨﮯ





ﻭﻩ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺒﮭﯽ ﻣﻌﻨﯽ
سمجھتا ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ﺧﺎﻣﻮﺵ رہتا ﮨﮯ 


ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ!
ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﮯ ﺗﺤﺎﺷﺎ ﺑﻮﻟﻨﮯ والی
ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻗﺼﮯ ﺩﺍﺳﺘﺎﻧﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ
کہتی ہے
ﮨﺮ ﺍﮎ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﭘﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ بات کرتی ﮨﮯ
ﻭﻩ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ سکتی 


ﻭﻩ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ سکتی
ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭼﻮﮞ کے ﻣﺤﻮﺭ ﮨﻮ
ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﯿﮑﺎﺭ
ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ 


ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺮ ﺩﻥ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ ﺳﮯ
ﺍﮔﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯽ
ﻣﺴﮑﺮاتے ﮨﻮ
ﺍﮔﺮ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻨﮩﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ
ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺘﺎ 


ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ!
ﮐﮧ ﯾﮧ ﺷﺐ ﮔﺌﮯ ﺗﮏ ﺟﺎﮔﻨﮯ والی
ﺟﺴﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ کی ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﯽ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ
ﻭﻩ ﮐﯿﻮﮞ ﺳﻮﻧﮯ ﺳﮯ ڈرتی ﮨﮯ؟ 


ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﻑ ﻻﺣﻖ ﮨﮯ؟
ﻭﻩ ﮐﮭﻞ ﮐﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ہنستی؟
ﻭﻩ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﮭﭗ ﭼﮭﭗ ﮐﮯ ﺭﻭتی ﮨﮯ؟
ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ
ﻣﮕﺮ ﺍﻧﺠﺎﻥ بنتا ﮨﮯ 


ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﺳﻤﺠﮭﺎﮰ
ﮐﮧ ﺩﻝ ﯾﻮﮞ ﻧﺎﺭﺳﺎﺋﯽ کی ﺗﭙﺶ ﺯﯾﺎﺩﮦ
ﺩﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﺳﮧ ﻧﮩﯿﮟ سکتا
ﺟﺴﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﯽ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ
ﻭﻩ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻨﺎ ﺍﯾﺴﮯ ادھورا ﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ
سکتا 


ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﺳﻤﺠﮭﺎﮰ!...
ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮯ ﺗﺤﺎﺷﺎ ﺑﻮﻟﻨﮯ والی
ﮨﺮ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﭘﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ کرتی ﮨﮯ 


ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ سکتی
ﻣﯿﺮﯼ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﺌﯽ ﺳﭙﻨﮯ ﺳﻤﻮﻉ ﺟﺎﺅ
ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﻦ ادھوری ہوں
ﻣﯿﺮﯼ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ 


ﺍﺳﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ
ﻣﮕﺮ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﺳﻤﺠﮭﺎﮰ


محبت مختصر بھی ہو تو




محبت مختصر بھی ہو تو اُس کو بھولنے میں عُمر لگتی ہے
وہ چہرہ بھول جاتا ہے
مگر 
اُس سے جُڑی دل کی سبھی یادیں
آکاس بیل کی مانند روح کے شجر سے شاخ درشاخ لپٹی ہی رہتی ہیں.
انھیں خود سے جُدا کرنے میں اک عمر لگتی ہے

 —
-

مٹاؤ گے کہاں تک تم ،________میری یادیں میری باتیں





مٹاؤ گے کہاں تک تم ،________میری یادیں میری باتیں

میں ہر اک موڑ پر اپنی _______ نشانی چھوڑ جاؤں گا 

میرے یہ لفظ مر کے بھی ___مجھے مرنے نہیں دیں گے

میں چپ ہو کے بھی لہجے __کی روانی چھوڑ جاؤں گا




وہ جانتی تھی‏‎




محبتوں میں صبر کا ثمر نہیں ہوتا

وہ جانتی تھی

محبت دکھوں کا صحرا ہے 

جہاں سراب سی خوشیاں ہیں 

اور عذاب سے غم 

جہاں ہیں پیاس جدائ کی بے تخاشہ مگر 

ملن کی بارشیں ہوتی ہیں جس دیار میں کم 


وہ جانتی تھی 


محبت خراج مانگتی ہے 


وہ جس کو دل کا لہو دے کے جگمگایا ہو 


اندھری راہ کے لیۓ وہ چراغ مانگتی ہے 


وہ جانتی تھی 


محبت وہ رہگزر ہے جہاں 


بچھے ہیں کانچ جدائ کے بیشمار مگر 


برہنہ پا ہی انہیں پار کرنا پڑتا ہے 


غموں کی دھوپ میں جب سائبان کوئ نا ہو 


کسی کی یاد کی چادر کو تھان کر خود پر 


تمام آہیں دبا کر گزرنا پڑتا ہے 


وہ جانتی تھی وفا کا اجر نہیں ہوتا 


محبتوں میں صبر کا ثمر نہیں ہوتا 


ہجر کی راہ میں ہوتی ہیں بے تخاشہ گھٹن 


وہاں کبھی بھی ہوا کا گزر نہیں ہوتا 


وہ جانتی تھی مگر پھر بھی روگ لے بیٹھی 


کسی کے پیار میں جانے کیوں جوگ لے بیٹھی 


وہ جانتی تھی مگر پھر بھی 


پیار کر بیٹھی



سنو_!! قصہ سناتا ہوں-









_!!سنو

قصہ سناتا ہوں-
تمہیں ایک سچ بتاتا ہوں- 

محبت کب ہوئی مجھ کو- 

تمہیں آغاز چاہت میں- 

میری غلطی بتاتا ہوں- 

میں ٹوٹا دل لئے اک دن- 

محبت بھول کے اک دن- 

یہ سمجھا میں مکمل ہوں-

اچانک ایک پری چہرہ- 

نظر کے سامنے گزرا- 


میری آنکھوں کے راستے وه- 

میرے اندر کہیں اترا- 

میں کیسے جان لیتا کہ- 

وه میری جان لے لیگا-مجھے اس راہ پر چلنے پہ- 

پھر مجبور کر دے گا- 

وه رستے کب کے بند کر کے- 

میں تو بھول بیٹھا تھا- 

محبت کے سبھی موسم- 

کہیں پر چھوڑ آیا تھا-

وه چہرہ اک دن جاتے ہوئے- 

کچھ اس طرح پلٹا- 

مجھے وه پل نہ بھولے گا- 


جہاں پر جان نکلی تھی- 

محبت لوٹ کر آئی- 

وه رستے کھل گئے جیسے- 

پھر اس نے اک دن مجھ کو بتایا- 

زندگی کیا ہے_؟؟ 

میری تکمیل کی اس نے- 

محبت سکھا کے وه- 

سمجھانے لگا مجھ کو- 

یہ غلطی مت کبھی کرنا- 

محبت درد ہے دل کا- 

وه پاگل یہ نہیں سمجھا- 

محبت کے سبھی چہرے- 

خوشی کے، غم کے سب لمحے- 

اسی کے نام کر کے- 

یہ غلطی کر چکا تھا میں- 

محبت کر چکا تھا میں- 

محبت کر چکا تھا میں- 

-

جب ہوا محبوب کی زلفوں سے کھیلتی ہے




جب ہوا محبوب کی زلفوں سے کھیلتی ہے اور اس کی خوشبو چُرا کر دور بہت دور رہنے والوں کو اس کے حُسن کے راز سے آگاہ کرتی ہے۔ 


تب چاند یہ سب کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اور تمنا کرتا ہے۔ 


کاش یہ منظر اس کی آنکھ سے کبھی اوجھل نہ ہو۔ 


وہ تمنا کرتا ہے اسے بھی کسی سے محبت ہو۔ 


لیکن 


چاند اپنی تنہائی کسی سے بانٹ نہیں سکتا۔ 


اے میری زندگی! 


کیا یہ راتیں یونہی تنہائیوں میں گہری گزرتی رہیں گی؟ 


کیا جانے والا کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا؟ 


ہاں! یہی سچ ہے۔ 


سو اس رنج وغم کا لبادہ اتار پھینکو۔ 


پریشانیوں سے پریشان نہ ہو کہ پریشانیان سوچ کو پختگی دیتی ہیں۔ 


جو ہمشہ کے لیے چلا جائے اس کی جدائی پر صبر کرو۔ 


یہ نا سمجھو کہ درد بُرا ہے کہ درد ہی تو ہے جو دوا کو دعوت دیتا ہے۔ 


درد اور صبر ڈھلان کی طرح ہوتے ہیں۔ 


اور دوا پانی کی طرح۔ اسی لیے جہان درد ہو، وہاں دوا دوڑی چلی آتی ہے۔ 


جہاں ڈھلان ہو، پانی اسی طرف بہتا ہے۔ 


سو انتظار کر صبر کے ساتھ انتظار کر۔ 


اس غم اور پریشانی کو غنیمت جان۔ اس درد کو رحمتِ الہی جان۔ 


! اے میرے محبوب


اپنے دل کا ٹوٹنا ایک نعمت جان۔ 


کہ اسے جوڑنے کا سامان جلد مہیا ہونے والا ہے۔ 






میں حیران ہوں




میں حیران ہوں ان لوگوں پر جو اچانک آشنائی ،تعلق، اچھاساتھ، دوستی، یادیں، 


مان اور بھرم پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ایسے بچھڑ جاتے ہیں جیسے کبھی ملے ہی نا ہوں 




دکھ ختم نہیں ہوتے ہیں





دکھ ختم نہیں ہوتے ہیں لیکن انسان انکو سہتاسہتا تھک جاتا ہے چپ ہوجاتا ہے اتنا چپ کے بعض لوگ مردہ سمجھ کر ٹھوکر لگاتے ہوئے گزر جاتے ہیں
اور دکھ دینے والے سکھ کی چاہ میں اذیت کے ساتھی بن جاتے ہیں اور انہی راہوں کے مسافر



Saldera Open Bowling explodes at Royal Rodale Club

The fourth edition of All Pakistan Saldera Open Tenpin Bowling Championship exploded into action at the Royal Rodale Club in DHA, Karachi, on November 26 with lucrative Rupees one million prize money up for grab.

Around 200 bowlers from across the country would be battling for top honors and heavy purse. Ahmer Abbas and Jannat Shaikh would be defending their men and women singles in the championship last year.
The Sindh Tenpin Bowling Association (PTBA) is conducting the event on behalf of Pakistan Tenpin Bowling Federation (PTBF).


Besides men and women titles, Masters Open, Graded Singles, Women’s, Under 24, Under 12,
Novice Beginners, Doubles & Team Event & Inter-Media categories will also be part of the contest.

The winners of men singles will get Rs 75,000 and the runners-up will pick up Rs 30,000 while the winners of the ladies crown will collect Rs 10,000 and the runners-up to get Rs 5,000.

In the other events like Open Singles winners collect Rs 40,000 and the runners-up take home Rs 30,000.

The 19-year-old Ahmer Abbas had created history last year with a Perfect Game of 300 in Pakistan. He is once again firm favorites for the crown.


Wednesday, November 22, 2017

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں




ترےعشق کی انتہا چاہتا ہوں 


مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں 


ستم ہو کہ ہو وعدۂ بے حجابی 


کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں 


یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو 


کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں 


ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا 


وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں 


کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل 


چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں 


بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی 


بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں



ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے



ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے 


دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے 


عجب ہے رات سے آنکھوں کا عالم 


یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے 


سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل 


مگر وہ شہر جو پیاسا رہا ہے 


وہ کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا 


جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے 


کسے ڈھونڈوگے ان گلیوں میں ناصرؔ 


چلو اب گھر چلیں دن جا رہا ہے



پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے






پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے 
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے 
لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کو بالے تک 
اس کو فلک چشم مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے 
آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں 
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے 
عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں 
جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا وارا جانے ہے 
چارہ گری بیماری دل کی رسم شہر حسن نہیں 
ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارہ جانے ہے 
کیا ہی شکار فریبی پر مغرور ہے وہ صیاد بچہ 
طائر اڑتے ہوا میں سارے اپنے اساریٰ جانے ہے 
مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں 
اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارہ جانے ہے 
کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپنا 
جس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہے 
رخنوں سے دیوار چمن کے منہ کو لے ہے چھپا یعنی 
ان سوراخوں کے ٹک رہنے کو سو کا نظارہ جانے ہے 
تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش 
دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے



بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہون





بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا 


دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا 


آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا 


گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی 


در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا 


وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو 


آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا 


جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہے 


جوہر آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا 



عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ 


عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا 



لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط 


تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا 



عشرت پارۂ دل زخم تمنا کھانا 


لذت ریش جگر غرق نمکداں ہونا 



کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ 


ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا 



حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ 


جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا



بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے





بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے


ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے 


اک کھیل ہے اورنگ سلیماں میرے نزدیک 


اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے 

جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور 


جز وہم نہیں ہستی اشیا مرے آگے 


ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے 


گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے 



مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے 


تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے 


سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں 


بیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے 

پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار 


رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے 

نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا 


کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے 

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر 

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے 


عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام 


مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ میرے آگے 


خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے 


آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے 

ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو 


آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے 

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے 


رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے 

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا 

غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے



بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو
کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی
عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا
تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی
اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف
سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں
آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی
نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل
وہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی
چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن
جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی
کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفرؔ سے ہر بار
خو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی
')