Welcome to my blog!

Meet the Author

This page is dedicated to all the art, poetry, literature, music, nature, solitude and book lovers. Do what makes your soul happy. Love and Peace. - D

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Showing posts with label Awaz Dost. Show all posts
Showing posts with label Awaz Dost. Show all posts

Friday, June 22, 2018

سفر


آج پھر ایک سفر سا درپیش ہے۔ ویسے تو ساری زندگی ہی سفرِ مسلسل اور بقول شاعر جبرِ مسلسل سی کوئی چیز ہے۔ خیر آج کا یہ سفر تین ساڑھے تین برس پر محیط پی ایچ ڈی کے سفر میں شامل ایک ننھا سا بونس سفر ہے،صرف پانچ دن، کوئی لگ بھگ چھیانوے گھنٹے، دنیا کے مہذب ترین (اگرچہ اس پر بحث کی جا سکتی ہے) معاشروں اور ترقی یافتہ ترین علاقوں کا سہولیات بھرا سفر، جس میں بیشتر حصہ اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر انتظار کرتے اور گھر جیسے باسہولت کمروں میں قیام کرتے گزرے گا۔ لیکن سفر تو پھر سفر ہے، اس کی ٹینشن، تیاری، تھکن، ایکسائٹمنٹ، لطف وغیرہ وغیرہ ہر سفر کی طرح اس کا حصہ ہے۔ اور میرے جیسا کنٹرول فرِیک اور قنوطی جسے ہر کام بڑے ہی منظّم انداز میں کئی کئی دن قبل کرنے کی عادت ہے، ایسے بے ضرر سے سفر کی ٹینشن اور تھکن بھی کئی دن پیشگی خود پر طاری کر کے ایک طرح کا روحانی سکون محسوس کرتا ہے۔ اس وقت گھر سے نکل کر اسٹیشن پہنچا ہوں۔ تین گھنٹے کا سفر کر کے ایک دوست کے ہاں رات گزاروں گا اور پھر اگلے دن سویرے تڑکے پرواز سے سابقہ وڈی سرکار بلکہ آج بھی تقریباً مائی باپ برطانیہ عظمیٰ کی پرواز ہے۔ مانچسٹر، ساری عمر معاشرتی علوم میں پڑھا کہ میرا شہر فیصل آباد ٹیکسٹائل انڈسٹری کے حوالے سے پاکستان کا مانچسٹر ہے۔ اب اصلی مانچسٹر بھی دیکھ لیا جائے گا۔
سفر کا مقصد ایک چار روزہ سمر سکول ہے جسے ایک برطانوی یونیورسٹی اللہ واسطے منعقد کر رہی ہے، مع دوپہر کا کھانا۔ اور ہم بسم اللہ کر کے جا رہے ہیں، مقصد شماریات کا کچھ علم حاصل کرنا ہے۔ اللہ کرے اس بوڑھے ہوتے دماغ میں کوئی بات پڑ جائے۔ میری ٹرین آنے میں کوئی دس منٹ باقی ہیں، بس اتنا ہی لکھا جا سکتا تھا۔

Saturday, December 31, 2016

نیا سال سب کو مبارک


ﺗﻮ ﺟﻮ ﻧﺌﮯ ﻋﯿﺴﻮﯼّ ﺳﺎﻝ ﭘﮧ ﺧُﻮﺵَ ﮬﻮﻧﺎ ﭼﺎﮬﺘﮯ ﮬﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺧُﻮﺷﯿﻮَﮞ ﮐﻮ ﻧﻈﺮ ﻧﯿﮟ ﻟﮕﺎ سکتی، ﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣُﺒﺎﺭﮐﺒﺎﺩ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮬﺘی ﮨﻮﮞ، ﺍُﻥ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫَ ﻣﻞ ﮐﺮ ﮨﻨﺴﻮنگی ، ﮐﮭﮑﮭﻼﺅﮞ گی، ﺧﻮُﺵ ﮨﻮنگی ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ
ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮَﮞ ﮐﮯ ﺑﯿﭻَ رہتیﮬﻮﮞ، ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺧُﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﻟﻤﺤﺎﺕَ ﮐﻮ ﺭَﺩّ ﻧﮭﯽ ﮐﺮﻧﺎ چاہتی،
ﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫَ ﮬﻤﺪﺭﺩﯼ ﺑﮭﯽ رکھتیﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺧُﻮﺵ ﮬﻮﺗﺎ ﺩﯾﮑﮫّ ﺧُﻮﺵّ ﻧﯿﮟ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ،
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﺍﻧﺸﻮﺭﻭَﮞ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫَ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﮞ ﺟﻮ ﮐﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺳﺎﻝ ﻣُﺤﺮﻡَ ﺳﮯ ﺷُﺮﻭﻉ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ،
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺻﺎﺣﺐّ ﻧﻈﺮّ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫَ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﮞ ﺟﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﻨﺴﯽّ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯّ ﭼﮭُﭙﮯَ ﻏﻢَ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﺎﮌَ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ، ﮬﺮ ﻗﮯّ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯّ ﭼﮭُﭙﯽَ ﮦ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ،
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﻣﺎﮞ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫَ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﮞ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺍِﺱ ﺳﺎﻝ ﮔﮭﺮ ﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻋﺪﻡ ﮐﺎ ﺭﺍﮨﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ،
ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﯾﺘﯿﻢَ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﮞ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺑﺎﭖَ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﯽ ﻧﯿﮟ ﺭﮬﮯ،
ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﻣُﻔﮑﺮّ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫَ ﺑﮭﯽ ﮬﻮﮞ ﺟﺴﮯ ﻓﮑﺮ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖّ ﮔﺮﮮ ﮔﮍﮬﮯَ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﻧﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﭘُﺮﺳﺎﻥ ﺣﺎﻝ ﻧﯿﮟ،
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﭘُﺮﺍُﻣﯿﺪَ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺷﻦ ﭼﺮﮮَ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮَﮞ ﮐﯿﺴﺎﺗﮫُ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﮐﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﺎﮞ !
ﺣﺎﻻﺕّ ﺑﺪﻟﯿﮟ ﮔﯿﮟ، ﮬﻢ ﺑﺪﻟﯿﮟ ﮔﯿﮟ، ﮬﻤﺎﺭﺍ ﻣُﻌﺎﺷﺮﮦَ ﺑﺪﻟﮯ ﮔﺎ، ﺍﻭﺭ ﻧﻈﺎﻡ ﺑﺪﻟﮯ ﮔﺎ،
ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻗﻌﯽَ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮏ ﻧﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐُﭽﮫَ ﮨﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮬﻢ ﻋﻤﻠﯽ ﺟﺎﻣﮧَ ﭘﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﯿﮟ،
ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻤﻞّ ﺳﮯ، ﺍﭘﻨﮯ ﺟﻨﻮﻥ ﺳﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻮﭺَ ﺳﮯ،
ﺑﺲ ﺳﻮﭺَ ﮐﻮ ﻣُﺜﺒﺖَ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩّ ﺭﮬﮯ ﻧﺌﮯ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺧُﻮﺷﯿﺎّﮞ ﻣﻨﺎﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺩِﻝّ ﻣﺖ ﺩُﮐﮭﺎﺋﯿﮯ ﮔﺎ !!!____

کہکشاں خان

Monday, September 5, 2016

صرف دس منٹ





"اچھا وقت کتنی جلد ختم ہو جاتا ہے نا؟"، اس کے لہجے میں شکوہ نُما سوال چھُپا تھا۔
"وقت بھلا کہاں رُکتا ہے۔" جواباً میری افسوس زدہ سی آواز بلند ہوئی تھی۔
ابھی بسیں چلنے میں کچھ وقت تھا۔ ڈرائیور باہر کھڑے متوقع نظروں سے شرکاء کو دیکھ رہے تھے۔ ابھی اُمید باقی تھی، کہ ابھی وہ لمحہ نہیں آیا۔ کچھ لوگ الوداعی کلمات ادا کر کے سوار ہو چکے تھے۔ اور کچھ ہم جیسے لوگ جیسے کسی معجزے کے منتظر تھے، شاید ہونی ان ہونی ہو جائے۔ یا شاید چند لمحے اور چُرانے کے لالچ میں حقیقت سے آنکھیں چُرا رہے تھے۔
"مجھے فیس بُک پر ایڈ کر لینا یاد سے۔" اس نے تاکیداً کہا۔
"میں جلد ہی تمہارے شہر آؤں گا۔ اپنا شہر گھماؤ گی نا؟" میں نے غیر محسوس انداز میں بات پلٹی۔
"ہاں، ہاں ضرور۔۔۔" اس کی آنکھیں یکدم چمکیں اور آواز میں اُمید کی کھنکھناہٹ در آئی۔
دس منٹ، دس صدیاں تھے یا دس لمحے۔۔۔ گزرنے کا احساس تب ہوا جب ڈرائیور نے سٹیرنگ سنبھال لیا۔ مہلت ختم ہو گئی۔ اب جانا تھا۔ میں نے آخری بار اس کا ہاتھ دبایا۔ آخری مرتبہ نظریں ملیں، ایک دوسرے کے خال و خد جیسے حفظ کرنے کی آخری کوشش ہوئی۔ اور پھر میں کچھ کہے بغیر بس کی جانب پلٹ آیا۔
"اپنا خیال رکھنا۔۔۔" پیچھے سے اُس کی آواز میں لرزاہٹ اُتر آئی تھی، یا میرا وہم تھا۔
"تُم بھی اپنا خیال رکھنا۔۔۔" میں نے مُڑے بغیر کہا۔ اور بس میں سوار ہو گیا۔
میں نے دانستہ دوسری طرف کی نشست چُنی۔ دوبارہ نظر پڑتی تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھُوٹ سکتا تھا۔ بس چل پڑی۔
"وہ بھی اپنی منزل کی جانب رواں ہو گئی ہو گی۔" میں نے سوچا۔
اور میرا ہاتھ موبائل سے کھیلنے لگا۔ "فیس بُک پر ایڈ کر لینا۔۔۔"۔ اُس کی ہدایت یاد آئی لیکن میں نے سُنی ان سُنی کر دی۔
اب میرے سامنے تصاویر تھیں۔ کانفرنس کے پہلے دن جب ہم ملے تھے۔ چائے پیتے ہوئے، لنچ کرتے ہوئے، لیکچر سُنتے ہوئے، اور پھر ان تصویروں میں وہ بھی آ شامل ہوئی تھی۔ اگلے دن چائے پر، لنچ پر اور پھر ڈنر پر جب ہم آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ اس نے ہاتھ میں سرخ وائن پکڑے جام سے جام ٹکراتے ہوئے مُجھے ٹوکا تھا "میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔۔۔" اور میں نے خجل ہو کر دوبارہ سے وہ عمل دوہرایا تھا۔ اُس کی مُسکراتی آنکھیں، جن کا سحر جوان ہوتی رات کے ساتھ ساتھ جوبن پر آتا چلا گیا تھا۔ اور پھر موسیقی کی لے تیز ہوئی تو اس نے مجھے بھی ساتھ کھینچ لیا تھا۔ میری رقص کرنے کی کوشش میں ناکامی پر اس کی رقص سکھانے کی کوشش بھی جب ناکام ہوئی، تو ہمارے مشترکہ قہقہے۔ اور پھر ڈی جے نے جب بھنگڑا میوزک لگایا تو ہر کسی کا مُڑ مُڑ کر میرا ذرا کم لڑکھڑاتا اور اس کا بہت زیادہ لڑکھڑاتا ہوا بھنگڑا دیکھنا۔۔۔اور پھر ہماری نقل کی کوشش کرنا۔۔۔ناکام ہونا اور پھر ہمارا کھِلکھِلانا۔۔۔۔
ان سب یادوں کے کچھ عکس محفوظ تھے۔ جیسے کوئی مووی چلتے چلتے رک گئی ہو اور کلک کرنے پر دوبارہ چل جائے، یونہی لگتا تھا کہ یہ منظر دوبارہ چل پڑے گا۔ میں نے ایک آخری بار اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔ اور اس کے عکس حذف کر دئیے۔
"کاش کسی طرح اپنی یادوں سے بھی اس کے عکس مٹا سکتا"، میں نے موبائل بند کرتے ہوئے تمنا کی۔
بس آٹو بان پر فراٹے بھرتی میرے شہر کی طرف رواں تھی۔ دھوپ بھرا روشن منظر بس ایک لحظے کے لیے دھندلایا تھا۔ اور "آنکھ میں کُچھ پڑ گیا ہے"، بڑبڑاتے ہوئے میں نے آنکھیں رگڑ ڈالی تھیں۔
---
بابا مستنصر حسین تارڑ کے سفرناموں سے متاثر ہو کر لکھی گئی ایک تحریر۔ کرداروں اور مقامات کی مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی۔


Thursday, August 4, 2016

Qandeel Baloch



ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻣﺠﺪ ﺻﺎﺑﺮﯼ ، ﭘﮭﺮ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺴﺘﺎﺭ ﺍﻳﺪﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻗﻨﺪﯾﻞ ﺑﻠﻮﭺ ۔۔

ﺗﻴﻦ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ، ﺗﻴﻦ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺷﻌﺒﮯ ، ﺗﯿﻦ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮐﺎﺭﮨﺎﮮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ۔۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﻳﮏ ۔۔۔ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺨﻠﻴﻖ ﮐﺎﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﮱ ۔ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﻴﮟ ﮐﻴﺎ ﮐﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮔﻴﺎ ، ﻓﺘﻮﮮ ﺑﮭﯽ ، ﻣﺬﺍﻕ ﺑﮭﯽ ، ﺳﻨﺠﻴﺪﮦ ﺑﺎﺗﻴﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﻮﺍﮨﻴﮟ ﺑﮭﯽ ۔۔۔

ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﻴﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﻮﺕ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﮰ ﮔﯽ ؟ ﻟﯿﮑﻦ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺗﻮﮨﻮ ﮔﻴﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺎ ، ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﺎ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻴﺠﻨﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﻭﺍﺟﺐ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﮔﺎ ، ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺰﺍﺣﻴﮧ ﺳﭩﻴﭩﺲ ﻟﮕﺎﮰ ﮔﺎ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮐﮫ ﺑﮭﺮﺍ۔۔۔ ﻟﻴﮑﻦ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺻﺮﻑ ﻭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮨﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻴﮟ ﮐﮧ ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺍﺏ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﻮ ﮔﺎ ۔


ﮨﻢ ﮐﻴﻮﮞ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻴﮟ ﮐﮧ ﺳﺰﺍ ﺍﻭﺭ ﺟﺰﺍ ﺩﻳﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ ۔ ﮨﻢ ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﺑﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺻﺮﻑ ﺩﻋﺎﮰ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﻴﮟ ﻣﺎﻧﮓ ﺳﮑﺘﮯ؟ ﮨﻢ ﮐﻴﻮﮞ ﻭﮦ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻣﻴﮟ ﻟﻴﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﭘﺮﮨﻤﯿﮟ ﺍﻳﮏ ﭘﺮﺳﻨﭧ ﺑﮭﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮩﻴﮟ ﻣﻠﻨﮯ ﻭﺍﻻ ۔ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﭘﺮ ﻣﺰﺍﺣﻴﮧ ﺳﭩﻴﭩﺲ ﻟﮕﺎ ﮐﺮﺍﭘﻨﯽ ﺑﮯﺣﺴﯽ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﮐﺴﯽ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﭩﻴﭩﺲ ﭘﺮ ﺑﮯﺣﺲ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮯﺣﺲ ﮐﻤﻨﭩﺲ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺟﻮ ﺩﻟﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﮯ ۔ ﮨﻢ ﯾﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻴﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﮑﺮ ﮐﺮﻳﮟ ، ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﻮ ﺳﺪﮬﺎﺭﯾﮟ۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟


ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻧﺎﻃﮯ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﮨﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻴﮟ ﻧﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺩﻋﺎﮰ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻇﺮﻑ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺰﺍﺣﻴﮧ ﺳﺘﯿﭩﺲ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﻟﮕﺎﺋﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻋﻴﺐ ﮔﻨﻮﺍﺋﻴﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻏﯿﺒﺖ ﮐﮯ ﺯﻣﺮﮮ ﻣﻴﮟ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻇﺮﻑ ﮐﻮ ﺑﻠﻨﺪ ﻓﺮﻣﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺩﮮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻋﺎﮰ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﮐﺮﻳﮟ ﻧﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﯿﺐ ﺟﻮﺋﯽ ﮐﺮﻳﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺩﺍﺭ ﺑﻨﯿﮟ ۔ ﺁﻣﻴﻦ



قندیل بلوچ، خدا سے ہماری شکایت نہ کرنا


قندیل بلوچ جب کوئی بیان دیتی تھی یا اپنی ویڈیو جاری کرتی۔ سوشل میڈیا پراس کی کی کہی بات وائیرل ہو جایا کرتی۔ بیزار کن سی پوسٹ کرنا اور کافی احمقانہ ویڈیو بیانات دینا اس کا خاصہ تھا۔ اب کیا حماقت کرے گی یہ ایک اٹریکشن تھی جو اس کے ساتھ قائم ہو گئی تھی۔


نہ وہ کوئی اچھی فنکارہ تھی۔ نہ اس کا تعلق کسی آسودہ گھرانے سے تھا۔ اس کی ذات سے جڑی ہر بات ہی ایک سکینڈل تھی۔ کپتان کی شادی کی خبریں آنے پر اس کا ایک بددعا قسم کا جلا کٹا بیان آیا کہ یہ شادی بھی ناکام ہو گی۔ قندیل کی حرکتوں سے اوازار ہو کر بھی آپ مسکرانے پر مجبور ہو ہی جاتے تھے۔


آج اسے قتل کر دیا گیا۔ اس کو اپنے بھائی نے گلا دبا کر مار دیا۔ کچھ دن پہلے اس کے ایک خاوند اور ایک بچے کی خبریں میڈیا پر چلتی رہیں تھی۔ پھر کسی رپوٹر نے ایک عدد مزید خاوند بھی ڈھونڈ لیا تھا۔ ایک بلوچ جرگے کی بھی اطلاعات آئیں تھیں۔ جس میں قندیل کی مذمت کی گئی تھی کہ وہ اپنے نام سے بلوچ ہٹائے۔


قندیل ایک ایسا کیس ہے جو ہمارے بیمار معاشرتی روئیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ تو ناکام تھی ہے لیکن اس سے متعلق لوگ بھی تو ناکام ہو گئے۔ خاوند اس کے ساتھ چلنے میں ناکام رہا۔ شو بز انڈسٹری اسے کام دینے میں ناکام رہی۔ میڈیا نے اسے بدنام کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ اسے شہرت چاہئے تھی جو اس نے حاصل کر لی۔


کسی نے بھی اس کے گھریلو حالات پر غور نہیں کیا۔ اس کی غربت پر اس کی معاشی حالت پر۔ روٹی کمانے کا کیا طریقہ اس کے پاس بچا تھا۔


مظفر گڑھ جو قندیل کا آبائی علاقہ ہے۔ وہاں ایک دوست سے بات ہوئی تو اس کا بتانا تھا کہ ہم تو قندیل کی قوم قبیلے کے لوگوں کا خوب مذاق اڑاتے ہیں۔ تب سن کر ہم بھی مسکرائے تھے۔ اس مذاق نے ہی ایسی باتوں نے ہی اس کی زندگی کا سفر جلدی تمام کیا ہے۔


بدقسمتی دیکھیں ہم ایک مذہبی معاشرہ ہونے کا دعوی رکھتے ہیں۔ کئی اقسام کے فرقے ہمارے ہاں موجود ہیں۔ مذہب کی ہر قسم کی تشریح qandeelماننے والوں کے پاس قندیل جیسوں کے لئے برداشت کا کوئی پیغام نہیں ہے۔ قندیل سے ایک مذہبی شخصیت کا رابطہ بھی ہوا تھا۔ مفتی عبدالقوی صاحب کی اس سے ملاقات ہوئی۔ مفتی صاحب نے اپنا سکینڈل تو بنوا لیا نام کو بٹا بھی لگوا لیا۔ قندیل کو سلامتی کا تحفظ کا امن کا عزت کا کوئی پیغام دینے میں وہ ناکام رہے۔


قندیل نے اپنے لئے تحفظ مانگا تھا سرکار سے جو نہیں دیا گیا۔ کیوں دیا جاتا بلکہ ایسی درخواست سنی بھی کیوں جاتی۔ یہ کام تو ہمارے ہاں لوگوں کی حیثیت دیکھ کر ہوتے ہیں۔ بطور انسان ان سہولیات تحفظات پر ہماری ریاست ہمارا معاشرہ ہمارا 

کوئی حق کدھر تسلیم کرتی ہے۔



قندیل کو ہم سب نے مل کر مارا ہے۔ ہمارے پاس اسے دینے کو کچھ تھا ہی نہیں۔

بھائی بھی اس کے پاس گیا تو سر پر چادر رکھنے سمجھانے کی بجائے گلا دبانے کو۔


امید ہے کہ وہ خدا سے ہماری شکایت نہیں کرے گی اپنے لوگوں کی۔ خدا تو ہمیں جانتا ہی ہے۔ ایدھی صاحب پہلے ہی جا چکے ہیں انہوں نے کوئی جھولا قندیل جیسوں کے لئے بھی وہاں ضد کر کے بنوا لیا ہو گا۔ جنہیں ہمارا معاشرہ دنیا میں لاتا تو ہے انہیں زندگی منانے نہیں دیتا۔



Thursday, March 17, 2016

وہ میں نے کچھ پوچھنا تھا آپ سے کہ



وہ میں نے کچھ پوچھنا تھا آپ سے کہ

وہ ہوتا ہے نا کہ کچھ معصوم چہروں میں بھی درندے چھپے ہوتے ہیں۔ اور بظاہر کرخت نظر آنے والے کیا معلوم اندر سے کتنے نرمل، کومل اور نرم خو ہوں؟

میں یہی سوچ رہا تھا کہ چہرے دھوکا دے جاتے ہیں، لہجہ و سخن میں اداکاری کا عنصر شامل ہو سکتا ہے۔ ایک لمحے کو نفرت، بغض و کینہ کو خلوص کا لبادہ اوڑھ کر پیش کیا جاسکتا ہے۔ مگر آنکھوں پہ مکاری کا کوئی چشمہ نہیں لگایا جاسکتا۔ آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرا مشاہدہ ہے جو کہ غلط بھی ہوسکتا ہے۔ پتہ نہیں کیوں کچھ بندوں کی آنکھوں سے منفی شعائیں نکلتی نظر آتی ہیں۔ حالانکہ ان سے ہمارا کوئی تعلق واسطہ بھی نہیں ہوتا اور معلوم نہیں کیوں ان سے نفرت سی ہونے لگتی ہے اور ہم ان سے گریز کرنے لگتے ہیں۔ 

اب میں نے یہ جاننا تھا کہ یہ کیوں ہوتا ہے؟ ایسا لگنا کہیں ہماری منفی سوچ ہے یا واقعی سامنے والے کی نظر کا فطور؟



Sunday, February 28, 2016

چائے




حضرات چائے کے فضائل کیا گنوائیں۔ سمجھ لیں کہ آسمانی تحفہ ہے جو خدا نے اپنی مخلوق کے غموں پریشانیوں کو کم کرنے کے لیے اتارا ہے۔ آپ عاشقِ صادق ہیں یا زوجہ کے ستائے ہوئے، دوست احباب یا اہلخانہ میں بیٹھے ہیں یا تنہائی سے شغل فرما، امتحان کی تیاری میں مصروف ہیں یا دفتر کے اضافی کام تلے دبے ہیں، ذہنی کام نے دماغ کی دہی بنا دی ہے یا جسمانی کام نے تھکا مارا ہے، صبح اٹھے ہیں تو بیڈ ٹی رات دیر تک جاگنا ہے تو نیند بھگانے کا تیر بہدف نسخہ؛ سردی، گرمی، خزاں، بہار کسی بھی موسم میں، رات، دن، سہ پہر، دوپہر کسی بھی وقت، گھر میں ٹی وی کے سامنے، بیٹھک، کھڑکی یا میز کے پیچھے، باہر فٹ پاتھ پر کرسی یا بینچ پر بیٹھے، دفتر میں فائلوں کے ہمراہ یا کسی میٹنگ میں مصروف، غرض ایک کپ چائے کہیں بھی آپ کی دنیا بدل سکتی ہے۔

دل جلانے کا من ہے تو دودھ کے بغیر پی لیں۔ دودھ کے ہمراہ دل جلانے کا شوق ہے تو کسی فٹ پاتھی چائے فروش سے مستریوں والی چائے کی فرمائش کر لیں۔ دودھ سے کچھ زیادہ رغبت ہے تو دودھ پتی کروا لیں۔ جاڑوں کی سردیلی صبح، نانی کے گھر میں لکڑی کے چولہے کے ساتھ بیٹھے گھر کی گائے/ بھینس کے دودھ اور گھر کے گُڑ کی بنی چائے پر تو دنیا جہان کی نعمتیں قربان کی جا سکتی ہیں۔ پستہ بادام سے شغف ہے تو کشمیری گلابی سبز چائے آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہے۔ پشاوری قہوے اور لیموں کا جوڑ تو شاید ہی کہیں اور پایا جائے۔ یعنی جیسا موڈ ہو ویسی چائے اسے دوبالا کرنے کے لیے حاضر۔

اور پھر چائے اکیلی ہی نہیں آتی، ساتھ طرح طرح کے لوازمات بھی دل لبھانے کو آ موجود ہوتے ہیں۔ بھوک لگی ہے تو چائے پراٹھا، اور اگر والدہ کے ہاتھ کا پکا پراٹھا چائے کے ساتھ مل جائے تو جناب اس کی قدر ہم جیسے پردیسیوں سے پوچھیں۔ توس، سادہ توس، انڈہ لگا توس، ٹوسٹر میں فرائی کردہ توس اور ساتھ ایک کپ چائے: لاجواب۔ ایک فرائی ہاف فرائی انڈہ، ابلا ہوا، ہاف بوائلڈ انڈا ایک چٹکی نمک اور کالی مرچ کے ساتھ چائے کے کپ کی چُسکیاں، سبحان اللہ۔ رس گلے، گلاب جامن اور برفی سے لدی ایک پلیٹ جب چائے کے کپ کے ساتھ گلے میں اترتی ہے تو اس کا مزہ کسی من و سلویٰ سے کیا کم ہو گا۔ اور رس یا بسکٹ چائے کی پیالی میں ڈبو کر کھانے اور پیالی میں ہی رہ جانے کی صورت میں پینے کا لطف بیان کرنے نہیں آزمانے کی چیز ہے۔ اور اگر میٹھا نہیں کھانا چاہتے تو نمکین چیزوں کے ساتھ بھی چائے کی بہت اچھی دوستی ہے: نمکو، سموسے، پکوڑے، چپس اور ساتھ ایک کپ چائے۔


تو صاحبو چائے کچھ ایسا عالمگیر مشروب ہے جو خال ہی کسی چیز کے ساتھ فِٹ نہ بیٹھتا ہوگا، کم ہی کسی صورتحال میں اجنبی محسوس ہوتا ہو گا اور کوئی بدنصیب ہی اسے چھوڑ کر کسی اور مشروب سے دل بہلانے کی آرزو کرتا ہو گا۔ کسی زمانے میں حکیموں کے ہاں ہی ملتی ہو گی ہمیں اس روایت سے انکار نہیں ، لیکن اب تو چائے ہر امیر غریب کی خوراک کا لازمی جزو ہے۔ دل جلانے، دل بہلانے، دل لگانے کے کام آتی ہے۔ وزیروں، مشیروں، شاعروں، ادیبوں، امراء، فقراء، علماء، ہر کسی میں مقبول یہ مشروب جسے ہم اردو میں چائے، انگریزی میں ٹی، پنجابی میں چاء اور جرمن میں ٹے بلاتے ہیں۔ اب اس کی تعریف اور کیا کریں کہ بس ایک کپ چائے نے کچھ ایسا دماغ چلایا کہ ہم نے ایک ڈیڑھ صفحہ اس کی مدح سرائی میں کالا کر ڈالا۔ تو صاحبو چائے پیئو، جیو اور خوش رہو۔



توازن





ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﻧﺎﮔﺰﯾﺮ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺳﻤﺠهی ﮨﻮﮞ۔ ﮨﺮ ﺭﺷﺘﮧ، ﮨﺮ ﻧﺎﻃﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺁﺝ ﺳﻤﺠﮫ ﺁﺋﯽ ﻣﺠﮭﮯ۔ ﺩﻭﺭِ ﺣﺎﺿﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺗﻮﻗﯿﺮﯼ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﻭﺟﮧ ﮨﯽ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﮐﯽ ﻋﺪﻡ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﻘﺪﺍﻥ ﮨﮯ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﺭﺟﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ، ﮔﮩﺮﺍ ﺩﻭﺳﺖ، ﺟﮕﺮﯼ ﺩﻭﺳﺖ، ﺭﻓﯿﻖِ ﮐﺎﺭ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﻭﺍﻻ ﺩﻭﺳﺖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺩﺭﺟﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﺴﻢ ﮐﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﻧﺴﺒﺖ ﺍﻭﻟﯿﻦ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﺩﮮ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﻮﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﻗﯿﺖ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﺍﺻﻮﻝ ﻭﺿﺢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ، ﮐﮧ ﺟﺴﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺻﻮﻟﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﺪ ﺑﻨﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺒﺮﺍ ﭨﮭﮩﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﮨﻢ ﺍُﺱ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ۔ 


ﯾﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﻋﻤﻞ ﮐُﭽﮫ ﺍُﺱ ﺍﯾﮏ ﭼﭙﻮ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﮯ ﻣﺸﺎﺑﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﭼﭙﻮ ﭼﻼﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻃﺮﻑ ﭼﭙﻮ ﭼﻼﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍُﺳﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﮐﺸﺘﯽ ﮈﮬﻠﮏ ﮐﺮ ﻏﺮﻗﺎﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔ 


ﺑﺲ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﭽﮫ ﺣﺎﻝ ﺁﺝ ﮐﻞ ﮐﮯ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﻭﻟﯿﻦ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﺩﯼ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯﯼ ﺑﺮﺗﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺍُﺱ ﮐﺸﺘﻨﯽ ﮐﯽ ﻣﺜﻞ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺑُﺮﺩ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ 


ﺗﻮ ﭘﮭﺮ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺪﺍ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﻭﺍﺣﺪ ﯾﮩﯽ ﮐﻠﯿﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﻭﻟﯿﻦ ﺗﺮﺟﯿﺢ ﻧﮧ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ، ﺍﺭﮮ ﺑﮭﺌﯽ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! ﺩﻭﺳﺖ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻧﺎﮞ، ﮐﯿﺎ ﮔﮩﺮﺍ، ﺟﮕﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﺲ ﺑﮏ ﻭﺍﻻ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟


ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﮨﯽ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﺍﺯﻥ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﺋﮯ ﺟﺎﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔



اﻧﺴﺎﻥ





اﻧﺴﺎﻥ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮐُﭽﮫ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﮐُﭽﮫ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺑﺪﻟﺘﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ، ﻭﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﻧﮧ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﭼﺎﮨﺎ۔





Friday, February 26, 2016

ﭘﮩﭽﺎﻥ





پته ۔۔۔۔۔۔ ! ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻋﺰﺍﺏ ﮨﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮐﮭﻮ ﺩﯾﻨﺎ۔ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﯾﺎﺩﺍﺷﺖ ﺳﮯ 
ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﻭ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺳﻤﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺳﻤﯿﺖ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﻘﻮﺵ ﮐﺎ ﻣﭧ ﺟﺎﻧﺎ۔ ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻮ ﺩﯾﻨﺎ۔۔۔۔۔۔۔ !!! ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺳﺒﮭﯽ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻤﻨﺎﻡ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔۔۔۔۔ !! ﺍﺳﮯ ﻋﺰﺍﺏ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﺷﺎﯾﺪ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺍﻧﻌﺎم.






Tuesday, February 9, 2016

محبت






محبت اور ضرورت
ضرورت سے محبت
یا پھر
محبت کی ضرورت
محبت اور ضرورت دو مختلف چیزیں ہیں۔ یہاں اللہ کی 
ضرورت سب کو ہے۔ سب اذیت میں، اذیت سے بچنے کے لیۓ بےساختہ اللہ اللہ کر اٹھتے ہیں۔ مگر اللہ سے محبت کچھ اور ہی چیز ہے۔ کچھ بہت ماورا، شاید بیان سے باہر!
اس محبت میں تو، دنیا کی نظر میں انسان اذیت میں بھی ہو تو اسے وہ اذیت نہیں لگتی۔ بلکہ محبت والے اس میں بھی صبر و شکر و حمد کے بہانے تلاش لیتے ہیں۔ وہاں صبر کرنے کے لیۓ حکمت سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ وہاں محبت 
میں تسلیم ورضا ہی جامِ محبت ہوتا ہے!



ایک اور صبح





بلآخر ایک اور صبح بیدار ہوئی۔ یا آنکھیں پھر سے وقت کے 


فریب کی زَدّ میں آگئیں؟ کہ وہی گزشتہ صبح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی صبح اور نئے دن کے نام سے نمودار ہوئی چاہتی ہے؟ زمان و مکان اور وقت کا تخلیق کردہ رب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ جس نے وقت کو عجب فراوانی بخشی ہے کہ بے لگام گھوڑے کی مانند ہاتھ میں آئے بغیر سرپٹ دوڑتا چلا جا رہا ہے۔ یا کہ پھر ایسا سحر بخشا ہے کہ چُٹکی بجا کر سکّے کے دو پہلوؤں کی طرح دن اور رات کی صورت میں اُن کے رُخ بدلتا رہتا ہے۔


کتنا عجیب ہے یہ سب؟ ایک صبح کل ہوئی تھی، ایک آج ہوئی ہے، اور ایک نے کل امرِ ربی سے ہونا ہے۔ ہر صبح کے ساتھ جڑی انسانی کیفیات میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ سورج اور چاند اپنے اپنے مدار میں اپنا چکر مکمل کرتے رہتے ہیں۔ مگر اِس صبح میں کوئی تغیّر نظر نہیں آتا۔ ہے ناں سحر، جادو، آنکھوں کا فریب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سوچ رہی ہوں کہ جب کائینات بنی تھی، معلوم نہیں کہ شروعات دن سے ہوئی تھی یا کہ رات سے، مگر اُس پہلے دِن کی صبح ضرور ہوئی ہوگی۔ اور اِسی طرح یہ بھی معلوم نہیں کہ کب اِس دنیا کا کاروبار اپنے انجام کو پہنچے گا، اور تب رات ہو گی یا دن؟ مگر یہ بھی طے ہے کہ اُس دن کی صبح بھی ضرور ہو گی۔


شاید ہمارے نزدیک دن اور رات کی پہچان صرف اندھیرے اور اُجالے تک ہی محدود ہے۔ مگر چاندنی راتیں تو اندھیری نہیں ہوتیں، اور نہ سورج گرہن کے وقت دن روشن ہوتا ہے۔ تو پھر دن اور رات کی پہچان کیا ہے؟ یہ روز نئی صبح کیوں نمودار ہو جاتی ہے؟ کیوں اُس رات کا قصّہ اُسی رات تک محدود رہ جاتا ہے؟ کوئی اگر اپنی کیفیت سے نکل کر نئی صبح چاہتا ہے تو کیوں اُس وقت رات ہو چکی ہوتی ہے؟ اور کوئی اگر صبح سے بیزار رات کا طلبگار ہے تو کیوں اُس کے متھے نئی صبح مار دی جاتی ہے؟ کیا اس کائینات میں رُونما تمام محرک عوامل نے صرف انسان پر ہی اثر انداز ہونا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہماری طبیعت کے مخالف کیوں؟ موافق کیوں نہیں؟


کہنے کو تو صبح ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اندھیرا اب بھی باقی ہے۔




موم بتیاں




سوچ رہی تھی کہ آخر خود کو کتنا فریب دینے کی کوشش کروں گی ؟ کچھ دیر کے لیئے دوسرے تو میرے فریب کی زد میں آ سکتے ہیں، مگر میں خود نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میرے رُوبرو کوئی دوسرا نہیں، میں خود ہوں۔

میں نے اپنے اندر کی تاریکی کو ختم کرنے کی خاطر اپنے ارد گرد بے شُمار موم بتیوں کا سہارا لے رکھا ہے۔ ایک بُجھنے لگتی ہے تو دوسری جلا لیتی ہوں۔ مگر کبھی یہ جسارت تک نہیں کی کہ تھوڑا سا اور آگے بڑھ کراُس ایک بلب کو ہی روشن کر لوں جو سدا کے لیئے میرے وجود کو اُجالوں سے روشناس کر دے۔ مگر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!

شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ڈرتی ہوں، اگر وہ بلب روشن ہو گیا تو مجھے 

ساری موم بتیاں بُجھانی پڑیں گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



Wednesday, February 3, 2016

میں ایک بلاگر ہوں۔






میں ایک بلاگرہوں۔ ایک عدد بلاگ بنا کر اردو بلاگنگ نامی سڑک کے کنارے


عرصہ دس برس سے پڑی ہوئی ایک ایسی پتھر ہوں جس پر دھوپ، بارش، گرمی، سردی نے کچھ نشانات چھوڑ دئیے ہیں، کہیں کچھ کائی سی جمی ہے، کچھ خراشیں آ چکی ہیں، کچھ کنارے جھڑ چُکے ہیں اور کچھ رنگ اُڑ چکا ہے۔ یعنی بحیثیتِ مجموعی ایک "قدیم" حجر شمار ہو سکتی ہوں۔ اس "قدامت" پر اکثر اوقات مجھے ایک کمینہ سا فخر رہا کرتا ہے۔

میں اردو بلاگنگ نامی سڑک کی ایک ایسی سنگِ میل ہوں جو ایک ویرانے میں نصب ہے۔ جب یہ سڑک میرے پاس سے گزرتی ہے تو صرف ویرانہ اور بنجر بیابان زمین نظر آتی ہے۔ گو کہ یہ سڑک بڑے زرخیز خِطوں اور علاقوں سے گزرتی ہے، اس کی راہ میں بڑے نابغۂ روزگار لکھاریوں کے گھر آتے ہیں اور پھر اب تو اردو بلاگنگ نامی یہ سڑک ڈان اردو، جنگ بلاگز، ہم سب اور لالٹین جیسے کئی بڑے بڑے شہروں تک بھی جاتی ہے۔ لیکن میں ایک تنہائی پسند پتھر ہوں جسے اس سڑک کا ایک گمنام سا سنگِ میل رہنا منظور ہے۔

میں بلاگر ہونے کے ناطے ایک لکھاری بھی ہوں۔ لیکن میری مثال راج مستری کے مقابلے میں ایک ایسے مزدور کی سی ہے جو اینٹیں ڈھونے کے ساتھ ساتھ فرش ہموار کر کے اس پر سیمنٹ ڈال کر ذرا پکا صحن بنانے کا کام بھی جاننے لگ جاتا ہے۔ اور اسی جاننے میں خود کو راج مستری سمجھنے لگتا ہے۔ میں بھی ایسی ہی ایک نیم پکی ہوئی لکھاری ہوں جس کا مطالعہ کم ہوتے ہوتے صفر تک آن پہنچا ہے۔ جس کے پاس مشاہدہ نہ ہونے کے برابر ہے چنانچہ وہ جب لکھتی ہے تو راج مستری نما مزدور کی طرح ایک اونچا نیچا فرش بنا دیتی ہے۔ دیوار کھڑی کرتی ہے تو ٹیڑھی ہوتی ہے، چھت ڈالتی ہے تو پہلی برسات میں ہی رِسنے لگتی ہے۔ میں ایک ایسی لکھاری ہوں جو کنویں میں رہنے والے مینڈک کی طرح صرف ایک اور شخصیت سے واقف ہوتی ہے : اس کا اپنا عکس۔ چنانچہ جب کنویں کا مینڈک کچھ ارشاد کرتا ہے تو وہ اس کی اپنی شان میں ہی فرمائی گئی کوئی بات ہوتی ہے۔ میری تنگ دستی، کم فہمی اور کوتاہ نظری کسی بھی بیرونی معاملے پر میری تحریر کے امکانات صفر کر دیتی ہے نتیجتاً میں خود پر، اپنے بارے میں، اپنے سے متعلق اشیاء کے بارے میں لکھتی ہوں جس کا پڑھنے والے سے شاذ ہی کوئی تعلق نکلتا ہے۔


اپنے اس بے ترتیب، بے ڈھنگے سفر میں مُجھ سے نادانستگی میں کچھ ایسی بلاگ پوسٹیں سرزد ہو چکی ہیں جنہیں وسیع و عریض صحرا میں پانی کے سراب سے تشبیہ دینا زیادہ مناسب رہے گا۔ کہ کبھی کبھی میرے قارئین کو لگتا ہے کہ میں ایک ہنرمند مستری قسم کا لکھاری ہو چکی ہوں۔ لیکن یہ کیفیت برسوں میں ہی کبھی وارد ہوتی ہے۔ اپنی اس مختصر سی بلاگ زندگی میں چلتے چلتے بائی داو ے قسم کے دو چار ایسے کام مجھ سے سرزد ہو چکے ہیں جن پر بلاشبہ مذکورہ بالا کمینہ سا فخر میں اپنا حق خیال کرتی ہوں۔ ان میں کسی زمانے میں ورڈپریس کے ترجمے کی کوشش، لینکس آپریٹنگ سسٹم کی تنصیب کے اسباق، اردو بلاگنگ کے حوالے سے کچھ پوسٹس، کچھ اردو نیوز ویب سائٹس کا ڈیٹا اکٹھا کر کے ایک ٹیکسٹ آرکائیو بنانا، اور حالیہ برسوں میں اپنے ترجمے کے کام کو آسان بنانے کے لیے ادھر اُدھر سے ڈیٹا اکٹھا کر کے دو تین آفلائن اردو لغت ڈیٹا بیسز کی تخلیق جیسی چیزیں شامل ہیں۔


تنہائی کا دائمی مریض ہونے کی وجہ سے اپنے بِل سے نکلنا مجھے کم ہی پسند ہے ۔ لیکن کبھی کبھی تجربے کی خاطر میں سوشل گیدرنگ میں بھی چلی جاتی ہوں۔ چنانچہ چند ایک اردو بلاگرز جو مجھ سے بالمشافہ ملاقات کا شرف رکھتے ہیں وہ تصدیق کریں گے کہ ان الفاظ کو لکھنے والی ٹنڈمنڈ شخصیت کو دیکھ ان شاخوں پر کبھی بہار نہ اترنے کا گمان یقین میں بدل جاتا ہے۔


چنانچہ اے میرے قارئین (اگر کوئی ہے تو) میری بلاگنگ پاکستان میں موسمِ گرما میں بجلی کی فراہمی جیسی ہے جو اکثر غائب رہتی ہے لیکن کبھی کبھار آ بھی جاتی ہے۔ بلاگنگ کے نام پر ایک داغ ہونے کی حیثیت سے میں شرمندہ شرمندہ کسی کو اپنے بلاگ پر کھینچنے کے لیے جگہ جگہ اپنی بلاگ پوسٹس کے ربط نہیں دیتی ، کسی بڑی ویب سائٹ کو اپنی تحریر نہیں بھیجتی (اگر ایسا کبھی ہوا بھی تو ناقابلِ اشاعت کا پیغام بھی موصول نہیں ہوتا)، اپنے بلاگ پر سینکڑوں پیج ویوز کی شماریات کا اعلان نہیں کرتی (چونکہ سینکڑوں پیج ویوز ہوتے ہی نہیں) اور اپنے بلاگ پر لکھے کو دو چار ماہ بعد خود ہی پڑھ کر خوش ہو لیتی ہوں۔ 


تو جناب آج آپ نے جانا کہ میں کیسی (یعنی کس قسم کی ) اور کیسے (یعنی کس طرح سے) بلاگر ہوں۔ تو آپ اگر مانیں یا نہ '
مانیں میں ایک بلاگر ہوں، اور بلاگنگ کے گلے میں اٹکا ایک ایسا کانٹا ہوں جو 
نہ نِگلا جا سکتا ہے اور نہ اُگلا جا سکتا ہے



Sunday, January 3, 2016

جُستجُو





پتا ھے! یہ جو جُستجُو ھے ناں۔۔۔۔! یہ بہت بے چین رکھتی ھے۔ اِس میں مبتلا شخص اُس وقت تک قرار نہیں پاتا جب تک کہ وہ ِاسے مکمل نہ کرلے۔ کسی شے کی جُستجُو کرنا یہ تو فطری عمل ھے، یہاں تک بات سمجھ میں بھی آتی ھے۔ لیکن اُسی جُستجُو کو حاصل کرنے کی خاطر حد سے گزر جانا سمجھ میں نہیں آتا۔ کیونکہ خُدا کی بنائی اِس کائنات میں سب کی حدود مقرر ہیں اور کوئی شے ان حدود سے تجاوز نہیں کرتی ھے۔ انسان چونکہ ہر معاملے میں بااختیار ھے مگر کسی چیز کے حصول کی جہاں بات آتی ھے وہاں اُسے بھی مقدر کے آگے گھٹنے ٹیکنا پڑتے ہیں۔


روزمرہ کی زندگی کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ہر شخص کسی نہ کسی کھوج میں مصروفِ عمل ھے۔ منزل تک پہنچنے کا اگر راستہ معلوم ہو تو منزل تک رسائی قدرے سہل اور آسان ہو جاتی ھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمت اور مضبوط عزم کا ہونا بھی لازم ھے، کیونکہ اکثر و بیشتر ہم زندگی کی راہ میں حائل دشواریوں اور کٹھنائیوں کے سبب حوصلے ہار جاتے ہیں اور شکست سے دوچار ہونا پڑتا ھے۔ جبکہ کوئی جُستجُو ایسی بھی ہوتی ھے جس میں منزل کی راہ کا علم اور عزم و حوصلہ بھی اُس تک رسائی حاصل کرنے میں معاون ثابت نہیں ہو پاتا۔۔۔


جیسے کہ ایک چکور چاند تک پہنچنے کی جُستجُو لیئے جنون کے ساتھ اِس عزم سے سفر شروع کر دیتا ھے کہ اُسے پا لے گا۔ اِس نا ختم ہونے والے سفر میں وہ مسلسل چاند کی جانب اپنی اُڑان جاری رکھتا ھے حتی' کہ اُس کا جنون اُسے موت کے دہانے پہ لا کھڑا کرتا ھے۔۔۔۔ اِسی طرح کبھی بارش کے بعد پروانوں کے جھرمٹ کو شمع کے گِرد مچلتے دیکھا ھے؟ پروانے کو بھی شمع کو چُھونے کی جُستجُو ہوتی ھے۔۔۔۔۔۔ پر وہ بھی شمع کے قریں پہنچ کے جل کر چکور کی مانند دم ہار جاتا ھے۔ پر اِن کی ایک بات مجھے بہت اچھی لگتی ھے۔۔۔ یہ دستبردار نہیں ہوتے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اِن کی جُستجُو لاحاصل ھے پھر بھی جاں فشانی کے ساتھ اپنی جُستجُو کی طرف لپکتے ہیں کہ اُسے پا لینگے۔ مگر یہ عاقبت نا اندیش یہ نہیں جانتے کہ جان لیواہ ھے لاحاصل کی تمنا کرنا۔۔۔۔














اِس پوری گفتگو کا لبِ لباب یہ ٹھہرا کہ کسی کی جُستجُو کرنا کوئی بُری بات نہیں اور نہ ہی اُسے حاصل کرنا معیوب ھے، بات جنون پہ آ کر بگڑتی ھے۔۔۔۔ یہ پا لینے کا جنون ہی ھے جو تمام حدود عبور کرواتا ھے۔ شائد محبت ھے ہی جنون کا نام۔۔۔۔ کسی پہ خود کو مٹا دینا ہی محبت ھے۔۔۔۔ جب جنون ہی نہیں تو وہ محبت کیسی؟؟؟ اِسی لیئے تو لوگوں کو چکور اور پروانے کی مانند فنا ہوتے دیکھا ھے۔ بظاہر تو یہ اپنی اپنی جُستجُو کو حاصل کرنے کی محبت میں فنا ہو جاتے ہیں پر حقیقت میں امر ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔














Saturday, January 2, 2016

دو مناظر





میرے سامنے دو مناظر ہیں، دو تصاویر، ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ موجود لیکن متضاد تصاویر اور میں ان دونوں تصاویر میں ایک مِس فٹ عنصر
میری کھڑی کے پار پہلا منظر جیسے صدیوں سے یونہی ساکن ہے۔۔کسی مصور
کی پینٹنگ کی طرح۔۔۔تاحدِ نگاہ برستی بارش ۔۔ایک کے بعد ایک قطرہ ایسے قطار اندر قطار اترتا چلا آتا ہے جیسے آسمان سے زمین تک پانی کی چادر ٹنگی ہوئی ہو۔ ایک مخصوص ردھم میں ہلتے درخت اور اکثر کانوں تک پہنچ جانے والی ٹِپ ٹِپ کی آواز۔ لیکن اس منظر کے سکون میں کبھی کبھی ہلچل پیدا ہو جاتی ہے اور جیسے زندگی انگڑائی لے کر اُٹھنے کی کوشش کرنے لگتی ہے۔۔۔کسی کار کے گزرنے سے، کسی چمنی سے دھواں برآمد ہونے سے، کسی پرندے کے منظر میں در آنے سے۔ اب پھر اس ابدی پینٹنگ میں زندگی نظر آ رہی ہے کہ ایک پرندہ بارش کے خلاف بغاوت کر کے گھر سے نکل آیا ہے۔۔۔۔


یہ میری نسل کے لوگوں کا ا لمیہ ہے یا خوش قسمتی کہ میرے سامنے ایک دوسرا منظر بھی ہے۔ میرے لیپ ٹاپ کی برقی اسکرین پر چلتا ہوا ڈیجیٹل منظر۔۔جس پر کھڑکی کے باہر ہونے والے عوامل کا کوئی اثر نہیں ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ یہ منظر برقی اشاروں سے تخلیق کردہ ایک فریبِ نظر کے سوا کچھ نہیں، کہ ماؤس سے کلک کرنے اور لیپ ٹاپ اسکرین پر ہاتھ لگانے سے ردعمل کا احساس سب مصنوعی ہیں۔ لیکن حقیقت سے مجاز اور قدرتی سے مصنوعی کا فرق آج مجھے اچھا لگتا ہے۔ یہی وہ منظر ہے جس پر میرے اپنے، ہزاروں میل دور میرے اپنے ہی دیس میں موجود میرے اپنے نمودار ہوتے ہیں تو میں چند لمحوں کے لیے کھڑکی کے باہر منجمد اس ازلی تصویر سے جدا ہو کر وہاں جا موجود ہوتی ہوں، ان گلی کُوچوں میں جن کا طواف میری روح اب بھی کرتی ہے۔ اور اسی مصنوعی منظر پر بار بار کچھ نئے چہرے بھی اُبھر آتے ہیں۔ زندہ، جوان، شوخ، چنچل، اور شرارت بھری آنکھوں والے کھلکھلاتے چہرے جنہیں ایک دو سال پہلے تک میں جانتی بھی نہ تھی ۔ لیکن اب وہ جیسے میرا خاندان ہیں۔ میرےاس خاندان کی جانب کھُلنے والی کھڑکی، مجھے میرے اپنوں کی یاد دلاتے، حوصلہ دلاتے میرے اپنے، میرا سرمایہ، میرے گروپ کے ذہین ترین دماغ۔۔۔جن کا ساتھ میرے لیے باعثِ
حوصلہ اور باعثِ فخر ہے۔



Wednesday, December 9, 2015

وہ اکثر کہا کرتی تھی









وہ اکثر کہا کرتی تھی کہ محبت کا رنگ نیلا ہوتا ہے ۔۔۔۔ ایک
دن میں نے اس سے پوچھا تمہاری اس بات کی مجھے سمجھ نہیں آئی میں نے تو سنا ہے محبت کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔
وہ مسکرا کے بولی یہ میں نہیں میری سہیلی کہتی ہے 
میں نے کہا کیوں وہ ایسا کیوں کہتی ہے
وہ کرسی سے اٹھ کر گرل کے پاس کھڑی ہو کر کہنے لگی 
میں نے اس سے پوچھا تھا ۔۔۔ 
وہ کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے کبھی آسمان کو نہیں دیکھا ؟؟؟ آسمان بھی تو نیلا ہے ۔۔ محبت کی بلندی ہے وہ تم نے دیکھا نہیں لوگ دعا کرتے وقت آسمان کو دیکھتے ہیں ۔ آسمان سورج چمکاتا ۔۔ زمین والوں کے لئے بارش برساتا محبت بھی تو بارش کی صورت ہوتی ہے ۔۔ تھوری برسے تو کم لگتی ہے زیادہ برس جاۓ تو سب کچھ برباد کر دیتی ہے ۔۔ 
عونی ۔۔۔۔۔ وہ کہتی تھی 
سمندر بھی تو نیلا ہے ۔۔ پر سکون ۔۔ گہرا ۔۔۔ نمکین ۔۔۔ 
محبت میٹھی نہیں ہوتی ۔۔ نمکین ہوتی ہے ۔۔۔ 
محبت تو آنسو دیتی ہے آنسو بھی نمکین ہوتے ہیں ۔۔۔ 
وہ کہتی تھی جب اس کی ماں کی موت ہوئی تب اس نے نیلا سوٹ ہی پہن رکھا تھا ۔۔ ماں بھی تو محبت ہوتی ہوتی ہے ۔۔ 
اس کی ماں کی موت دمہ کی وجہ سے ہوئی ۔۔ وہ کہتی تھی موت کے وقت آکسیجن کی کمی کی وجہ سے میری ماں کے ہونٹ نیلے ہو گۓ تھے ۔۔ 
وہ اکثر کہا کرتی تھی محبت کا رنگ نیلا ہوتا ہے ۔۔ 
پچھلے سال اس کی بھی موت ہو گئی تھی ۔۔۔ کسی زہریلی چیز کے کاٹنے سے ۔۔ 
عون ۔۔۔۔۔ پتا ہے کہنے والی کہتی ہیں مرنے کے بعد اس کا رنگ بھی نیلا ہو گیا تھا 



Saturday, November 28, 2015

وہ معصوم پھول کہ





آج صُبح جب امّی کچن میں ناشتہ تیار کر رہی تھیں، تو بے دھیانی میں پانی سے بھرا ہوا کُولر سٹینڈ سے گِرا اور سارا پانی بہہ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اُس کے تھوڑی ہی دیر بعد مجھ سے چائے کا کپ گِرا اور چائے بھی بہہ گئی۔ امیّ نے کہا کہ یہ آج ہو کیا رہا ہے؟ صُبح صُبح ہر چیز بہہ رہی ہے۔۔۔۔ اب سارا دن یہی نہ ہوتا رہے۔۔۔۔۔۔ تھوڑی دُور بیٹھا ناشتہ کرتے ہوئے جب میں نے امّی کے یہ الفاظ سُنے تو پتا نہیں کیوں لاشعوری طور پہ میں نے دِل ہی دِل میں کہا کہ خون بھی تو بہتا ہے۔۔۔۔۔۔ آنسو بھی تو بہتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟ لیکن اُسی وقت ان الفاظ کو میں نے منہ سے باہر نکلنے سے روک لیا کیوںکہ امّی پہلے ہی غصّے میں تھیں، اور مجھے ایسی بات کرنے پہ ڈانٹ پڑنی تھی، اس لیئے میں نے چُپ میں ہی عافیت جانی۔۔۔۔۔

دوپہر کو چلتے ہوئے کسی کو کہتے سُنا کہ پیشاور میں بچوں کے سکول پہ فائرنگ ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ خبر دیکھنے کے لیئے جب میں نے نیوز چینل لگایا تو پتا چلا کہ فائرنگ کے ساتھ ساتھ دھماکہ بھی ہوا ہے، اور شہید بچوں کی تعداد 100 سے بھی تجاوز کر چُکی ہے۔ وہ مناظر اور آہیں اعصاب پہ طاری سی ہوگئیں۔۔۔۔۔

پھر کافی دیر بیٹھی سوچتی رہی کہ شاید امّی نے صُبح ٹھیک ہی کہا تھا کہ صُبح صُبح پانی بہہ گیا۔۔۔۔۔۔ چائے بہہ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سارا دن اللہ نہ کرے یہی ہوتا رہے۔۔۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے آج سارا دِن یہی ہوا۔ ننّھے فرشتوں کا خون اس قوم اور ملک کی خاطر زکوٰۃ کی صورت میں بہہ گیا۔۔۔۔ مستقبل قریب میں جنھوں نے اس پاک سر زمین کا معمار بننا تھا، وہ روشن مستقبل بھی ریلے کی صورت بہہ گیا۔۔۔۔۔۔ وہ جگر گوشے جو کہ اپنے ماں،باپ کی اُمیدوں کا محوّر تھے۔ جنھوں نے علم کے چراغ جلا کر اپنی اور اپنوں کی زندگیوں میں ضیاء بانٹنا تھا۔۔۔۔۔۔۔امیدوں کا وہ محوّر بھی ڈھلتے سورج کی مانند بہہ گیا۔۔۔۔۔۔ اور اُن والدین کے ساتھ ساتھ آج ہر احساس سے لبریز دِل گرفتہ ہوا، ہر آنکھ اشکبار تھی۔۔۔۔۔۔ اور آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! آخر یہ دِن بھی آج بہت کچھ بہا کر خود بھی وقت کے دھارے کے ساتھ بہہ گیا۔۔۔۔ 

وہ معصوم پھول کہ جنھوں نے ہماری خاطر قربانی دی۔۔۔۔۔۔ اللہ سائیں کے پاس بلند درجات پہ فائض ہونگے۔ ہم اُن کے لیئے صرف دُعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے قاتلوں کو کیفرِکردار تک پہنچائے۔۔۔۔۔اور ان بچوں کے اہل و عیال سمیت ہر احساس سے لبریز دِل کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔۔۔۔۔ اور بدامنی، دہشت گردی، لسانیت اور فرقہ واریت جیسی لعنتوں سے ہمارے مُلک و قوم کو محفوط فرمائے۔۔۔۔ آمین ثُمہ آمین 



کہ محبت کسی کو دیکھنے سے ہوتی ہے یا بن دیکھے



کسی احباب کا سوال تھا کہ محبت کسی کو دیکھنے سے ہوتی ہے یا بن دیکھے؟
تو ۔۔۔۔۔۔۔ محبت تو احساسات و جزبات سے لبریز ایک جزبے کا نام ہے، جو غیر مرئی ہو کر بھی محبت کرنے والوں کی آنکھوں سے عیاں ہوتی ہے۔۔۔۔ ان کے ادب میں پوشیدہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔ محبوب کو لے کر اس کی فکر سے چھلکتی ہے۔۔۔۔۔
اب سوال یہ ہے کہ کسی کو دیکھ کر محبت ہوتی ہے یا پھر بن دیکھے ہی ہو جاتی ہے؟ تو اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ محبت ہوتی کس سے ہے؟ محبت اسی سے ہوتی ہے نا جس سے تعلق ہو، اب تعلق کسی قسم کا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ سوچ کا تعلق، کام کا تعلق، گفتگو کا تعلق، کسی رشتے کا تعلق، یا پھر صرف دیدار کا ہی تعلق لے لیجیئے۔۔۔۔۔۔ جس سے کوئی تعلق ہو، اور اس تعلق کو نبھاتے ہوئے اسی تعلق میں رُونما ہونے والی نئی تبدیلی کا نام محبت یا پھر نفرت ہوتا ہے۔  آج تک کسی سے آپ نے یہ سُنا ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اسے کسی شخص سے بنا کسی تعلق سے محبت یا پھر نفرت ہے؟ نہیں ناں؟؟؟ تو بس محبت بھی یہی ہے۔۔۔
علمِ شہریت میں انسان کو سماجی جانور کہا گیا ہے کہ وہ اکیلا، تنِ تنہا نہیں رہ سکتا، قدرت نے میل ملاپ، دوسروں سے تعلق استوار رکھنا، اور اپنی ضرورتوں کی خاطر دوسروں پہ انحصار کرنا اس کی سرشت کا حصہ بنایا ہے۔ اب اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک انسان کا دوسرے انسان سے قدرتی لحاظ سے انسانیت کا ایک رشتہ قائم ہے۔ اپنی سرشت ہی کی پیروی کرتے ہوئے ایک انسان دوسرے کسی اجنبی انسان سے ملتا ہے، اس کے ساتھ کام کرتا ہے، اس سے گفتگو ہوتی ہے، دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، پرکھتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی اچھائیوں اور برائیوں سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔ اور پھر وہ اگر یہ دعویٰ کر دیں کہ انھیں ایک دوسرے سے محبت ہے تو کیا وہ واقعی محبت ہے؟ کہ کسی انسان کو پہلے دیکھو کہ وہ واقعی خوبرو اور خوش شکل ہے؟ اس میں کیا نقائص ہیں؟ کیا کیا اچھائیاں ہیں؟ تو معزرت کے ساتھ یہ دیکھنے، جانچنے والا روّیہ سبزی ترکاری، یا اشیاء خوردونوش کے ساتھ کیا جاتا ہے، یا پھر ماں باپ جب اپنی بیٹی یا بیٹے کا رشتہ طے کرنے لگتے ہیں تب وہ دیکھتے پرکھتے ہیں۔۔۔۔۔ یہ محبت نہیں بلکہ خود پسندی ہے کہ کسی انسان کا انتخاب کیا جائے کہ آیا وہ شخص میرے معیار پہ پوا اترتا ہے یا نہیں؟ یہ محبت نہیں ہوگی بلکہ اپنے انتخاب سے محبت کی جائے گی۔۔۔۔ گویا کہ اپنے آپ سے ہی محبت کی جائیگی۔۔۔۔۔ محبت ہونا اور بات ہے، اور محبت کرنا اور۔۔۔۔۔۔۔
اور جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ محبت اس سے ہوتی ہے جس سے کوئی تعلق ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو دو متضاد جنس کے حامل فریقین میں معاشرتی، اخلاقی اور شرعی لحاظ سے تعلق قائم کرنے کو نکاح یا شادی کہتے ہیں، اب اس تعلق کے بعد جب دونوں فریقین ایک دوسرے کو دیکھیں گے، پرکھیں گے، اور اچھائی و برائی کو ملحوظ خاطر رکھنے کے بعد جو ہوگی وہی حقیقت میں محبت ہوگی۔۔۔۔ اور جو اس تعلق سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھیں گے، پسند کریں گے، اور پھر اسے محبت کا نام دیں گے تو یہ محبت نہیں۔۔۔۔۔ بلکہ اپنی پسند سے، اپنے انتخاب سے محبت کی جائیگی۔۔۔۔
اب سوال یہ ہے کہ محبت کسی کو دیکھنے سے ہوتی ہے یا بن دیکھے؟ تو اس کا جواب میری ناقص سوچ و سمجھ کے مطابق یہی ہے کہ کسی انسان کو دیکھ کر ہونے والی محبت صرف نکاح کی صورت میں ہو سکتی ہے، کیونکہ اس میں نیّت کا کوئی فطور کارفرما نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ دونوں ہی اخلاص سے ایک بندھن کو لے کر چلتے ہیں اور وہی بندھن محبت بھرا بندھن بن جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
جبکہ نکاح یا شادی کے تعلق کے بغیر ہونے والی محبت بن دیکھے ہی ہوتی ہے۔ کسی کو دیکھے بنا، اس کے بارے میں دوسروں کے منہ سے تعریفی کلمات سن کر، اس کی اچھائیوں کے چرچے سن کر، وہی انسان سوچوں کا مرکز و محور بن جاتا ہے، اس سے سوچ کا تعلق جڑ جاتا ہے۔ پھر اس انسان کو نہ دیکھتے ہوئے بھی اس کی خوبیوں کی صورت میں ہر وقت اس کا دیدار کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔ اور پھر اسے بن دیکھے ہی اس کی محبت پہ ایمان بالغیب کی طرح ایمان لایا جاتا ہے۔ جس میں محبوب کو دیکھا نہیں ہوتا، لیکن دیکھنے کی چاہت ضرور ہوتی ہے۔۔۔۔۔ اور ایسی محبت حاصل و حصول ، شکوہ و شکایت ، اچھائی و برائی سے مبّرا ہو کر نبھائی جاتی ہے۔۔۔۔ ایسی محبت خوبصورتی سے نہیں۔ بلکہ جس سے محبت ہو وہی خوبصورت و یکتا و بے مثل ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ 
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ محبت وجود سے وجود کا تعلق نہیں، بلکہ روح سے روح کے ربط کا نام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کو دن رات دیکھتے ہوئے، ایک چھت تلے رہتے ہوئے، اور اس کی خوبیوں سے واقفیت رکھتے ہوئے بھی اس سے محبت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ اور کسی کو دیکھے بغیر، بنا تعلق کے، کوسوں میلوں دُور ہونے کے باوجود بھی صرف اس کا ذکر سن کر، اس کی خوبیاں جان کر اس سے محبت ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ ایک بے لوث جزبہ ہے، جو کہ صرف خاص روح کو کسی خاص روح کے لیئے عنایت کیا جاتا ہے۔ اور وہ روح اس روح کو خود ہی ڈھونڈھ لیتی ہے۔۔۔۔۔۔


محبت کیسا جزبہ ہے۔۔۔۔۔۔۔






مجھے نہیں معلوم کہ یہ محبت کیسا جزبہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ یا ہوتا ہوگا؟

اس کا احساس یا اس کی علامات کیا ہیں میں نہیں جانتا؟ کہنے والے کہتے ہیں کہ جو سمجھ بوجھ اور عقل میں آنے سے بالاتر ہو وہ محبت ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں نے اس جزبے کو محسوس کرنے کے لیئے ہمیشہ ہی طویل سوچوں کا سہارا لیا ہے۔ اور انہی سوچوں نے وہ دریچے کھولے جن سے میں نے جھانک کر محبت کا مشاہدہ کیا۔۔۔۔

میرے اندر ہمیشہ ہلچل رہتی ہے، ویسی ہی کیفیت جیسے کسی کا کچھ قیمتی سامان کھو گیا ہو اور وہ شخص اپنے کھوئے ہوئے سامان کا متلاشی بنا ڈگر نگر بھٹک رہا ہو نیند میں بھی بے خوابی سی کیفیت، بظاہر سویا ہوا لیکن بیدار۔۔۔۔۔۔۔ اس حالت سے بیزار ہوا تو اس کی وجہ اپنے تئیں جاننے کی کوشش کی۔۔۔ آخر یہ بےسکونی کیوں ہے؟ میں اپنے اردگرد لوگوں کا بغور مشاہدہ کرنے لگا، تجسّس بھری نظروں سے ان کے چہروں کو گھور گھور کر دیکھتا کہ آیا ان کے اندر بھی میری مانند افرا تفری ہے یا نہیں؟ تو دیکھتا ہوں کہ ہر انسان کو جلدی ہے، چہروں پر سے ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں، اور یہ کہتے اِدھر اُدھر بھاگتے پھر رہے ہیں میرا یہ کام نہیں ہوا، وہ نہیں ہوا، مجھے بہت دیر ہو رہی ہے، مجھے یہ چاہیئے، وہ چاہیئے۔۔۔۔ یہ سب دیکھ کر لگا جیسے ہم انسان نہیں مشینیں ہوں، زندگی میں زرا بھی ٹھہراؤ نہیں، اگر کسی لمحے رکے تو جیسے ہار جائیں گے اور بہت پیچھے رہ جائیں گے۔۔۔۔


یہ صورتِ حال دیکھ کر میں سوچنے لگا کہ آخر وہ کیا شے ہے جس نے ہم انسانوں کے اندر کھلبلی مچا رکھی ہے۔ تو ناقص عقل کو یہی سمجھ آئی کہ فطری چیزیں ہمیشہ اپنی فطرت پہ قائم رہتی ہیں، وہ کسی طور بدلتی نہیں اور نہ بدلی جاسکتی ہیں۔۔۔۔۔ اور انسان کے جسم میں مقید روح فطرت پہ قائم ہے۔ روح کی فطرت محبت ہے۔۔۔۔ بلکہ روح بذاتِ خود سراپاء محبت ہے۔۔۔ یہی روح ہی تو محبت کا وہ مظہر ہے جو کہ حق کے انوار و تجلیات سے مشرف ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ اور اسی محبت پہ مولانا رومؒ فرماتے ہیں کہ "سچائی کے بےشمار راستے ہیں، اور جو راستہ میں نے چُنا وہ محبت ہے"۔۔۔۔۔۔۔۔ اس قول سے صاف ظاہر ہے کہ حق تک پہنچنے کا راستہ محبت ہے۔۔۔ اب کسی بھی منزل تک وہی پہنچ سکتا ہے نا کہ جسے راستہ معلوم ہو، تو محبت ہی روح کی رہبر ہے۔۔۔۔۔

اور روح کی تخلیق میں بنیادی طور پہ آزاد ی کا عنصر ہے۔۔۔۔۔۔ بعد میں وہ جسم میں مقیّد ہوئی۔ تو اپنی فطرت کے پیشِ نظر روح جسم کی قید سے آزادی چاہتی ہے۔ چونکہ محبت ہی روح کی رہبر ہے۔۔۔۔ مگر ہم انسانوں کے اندر تو محبت کی بجائے حسد اور نفرتیں پنپتی رہتی ہیں۔۔۔ اس لیئے روح کو کوئی راستہ نہیں ملتا۔۔۔۔ وہ بند پنجرے میں قید پرندے کی مانند پھڑپھڑاتی رہتی ہے۔۔ اسی وجہ سے ہم لوگوں میں افراتفری کی سی کیفیت پائی جاتی ہے۔۔۔ وجود کو ہر سکھ مہیا کرنے کے بعد بھی تشفی اور سکون حاصل نہیں ہوتا۔۔۔ کیونکہ " محبت وجود سے وجود کا نہیں، روح سے روح کے ربط کا نام ہے"۔ روح سے روح کا ربط آخر تب ہو نا جب کہ روح آزاد ہو؟ تو جو لوگ اخلاقیات، حُسنِ سلوک اور اپنا تن،من، دھن سب خوشی خوشی نچھاور کردینے کا ظرف اور بنا کسی توقعات کے ایثار جیسے اعلیٰ اسلوب رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ایسے ہی لوگوں کے دلوں میں محبت پنپتی ہے۔۔۔۔۔۔ ان کی روحیں ان کے اجسام سے آزاد ہو جاتی ہیں۔۔ وہ ہمہ وقت جسم میں بھی موجود رہتی ہیں اور وصلِ محبوب سے بھی لطف اندوز ہو رہی ہوتی ہیں۔۔۔۔ ایسے لوگ نفسِ مطمعنہ کے حامل ہوتے ہیں۔۔۔ اور انہی کی روحوں کو محبت کا سرور نصیب ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 




محبت




کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ محبت کی موجودگی و غیر موجودگی کو جانچنے کا کوئی آلہ ایجاد ہوا ہے؟ اگر ایسا کوئی آلہ ہے تو اب بھی کچھ لوگ کیوں محبت کے نام پہ دھوکا کھا رہے ہیں؟

اور اگر ایسا کوئی آلہ موجود نہیں تو پھر لوگوں کو کیسے علم ہو جاتا ہے کہ کسی کو واقعی اُن سے محبت ہے؟

میں نے آج تک کسی کو محبت کا دعوٰی کرتے نہیں دیکھا۔ ہاں مگر اپنی محبت کا اظہار کرتے بہت سوں کو دیکھا ہے۔ اور اگر کوئی محبت کا دعویدار ہے تو میرے سامنے آئے اور اپنے دعوے کو درست ثابت کرے۔ اتنا آسان نہیں ہے کہ جس چیز کا دعوٰی کیا جائے تو پھر اُس پہ پورا اترا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔ 

اور اب چونکہ انسانی خواہش کا تقاضہ ہے کہ اُسے کوئی بھی اچھا لگ سکتا ہے تو وہ اُس سے اپنی محبت یا پسندیدگی کا اظہار کردیتا ہے۔ مگر محبت کا دعوٰی نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔ کیونکہ محبت کا دعوٰی کرنا یعنی کہ اپنے تمام اختیارات اپنے محبوب کے سپرد کرکے سبکدوش ہو جانا۔۔۔۔۔۔ محبوب اگر کہے کہ اندھے کنویں میں چھلانگ لگاؤ تو بنا سوالیہ نظروں کہ اُس اندھے کنویں میں کُود جانا۔۔۔۔۔ اسی لیئے تو محبت کے دعویدار کم اور اظہار والے زیادہ ہیں۔۔۔۔۔۔ 

اب میرے اوپر پوچھے گئے دونوں سوال اُن لوگوں سے ہیں جو کہ اپنی تو محبت کا دعوٰی کرتے نظر آتے ہیں لیکن دوسروں کی محبت کو طعنہ دیتے ہیں کہ یہ محبت نہیں ہے۔ اچھا! اگر یہ واقعی محبت نہیں ہے تو وہ آلہ لا دیں (جس میں انھوں نے اپنی محبت کو جانچا تھا اور انھیں یقین ہو گیا تھا کہ اُن کی محبت واقعی محبت ہے) تاکہ باقی بھی اپنی محبت اس آلے سے جانچ سکیں۔۔۔۔۔۔ 

اور یہ جو میرے جیسے عام اور کمزور لوگ ہوتے ہیں نا ان کی محبت صرف اظہار و اقرار تک ہی محدود ہوتی ہے۔ دعوٰی اس لیئے نہیں کر پاتے کیونکہ وہ شاید اس لائق ہی نہیں ہوتے کہ اپنے دعوے پہ پورا اتر سکیں۔ اور ان کے بارے میں یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ ان کو محبت نہیں ہے۔ ارے بھئی! محبت کوئی سند تھوڑی نا آکر کسی کو دیتی ہے کہ لو بھئی میں تُم کو ہو گئی ہوں اور تُم اِس امتحان میں پاس ہو گئے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ 

محبت کو جانچنے کا نہ کوئی آلہ ہے اور نہ ناپ طول کا کوئی پیمانہ۔ یہ تو ایک غیر مرئی احساس سے مزّین ایک جزبہ ہے جو کہ فکر اور ذکر میں جھلکتا ہے۔ محسوس کیا اور کرایا جاسکتا ہے۔ اب اگر کسی کو یہ نظر نہ آئے اور وہ محسوس نہ کر سکے تو پھر اِس میں کسی کی محبت کا کیا دوش؟ کیونکر کسی کی محبت کو نہ ہونے کا طعنہ دینا؟ اگر ہم اپنی محبت کے دعویدار ہیں تو کم از کم دوسروں کی محبت کا بھی بھرم رکھیں۔ محبت ہونے نہ ہونے یا محبوب کی سند کی محتاج نہیں ہوتی۔ جس طرح ہر انسان کی شخصی اور ذاتی عزت ہوتی ہے۔ اسی طرح اُس کی محبت کا معاملہ بھی اُس کا اپنا ذاتی ہے۔ اُسے محبت ہے یا کچھ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ساری حقیقت صحیح وقت پر آشکار ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اصلیت تادیر چھُپ نہیں سکتی۔۔۔۔۔ 

اور پتا ہے! سب سے زیادہ تکلیف بلکہ اذیت تب ہوتی جب کسی کی محبت کی موجودگی کا انحراف کیا جائے۔ اس کے نہ ہونے کا طعنہ دیا جائے۔ اس طعنے کی تکلیف اتنی ہے کہ دعا ہے یہ طعنہ ان کو کوئی نہ دے جو دوسروں کو دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ 

دعا ہے کہ اللہ جی اِن دنیاوی محبتوں سے دِل پاک کردے جس میں ہونے کے باوجود بھی نہ ہونے کے طعنے ملتے ہیں۔ اور اللہ جی اپنی محبت عطا فرما۔ کیونکہ اے اللہ تو کسی کو طعنہ بھی نہیں دیتا چاہے محبت میں خلوص ہو یا دکھاوا ہو۔تو محبت نبھاتا ہے، محبت کا بھرم رکھتا ہے۔ ہم نحیف اور کمزور تیری محبت کے دعویدار تو نہیں مگر ٹوٹی پھوٹی عیب دار، دنیا داروں کی ٹھکرائی ہوئی محبت لے کر تجھ سے التجا کرتے ہیں مالک ہماری ساری کی ساری محبتوں کا رُخ اپنی طرف موڑ لے۔ آمین ثمہ آمین