Welcome to my blog!

Meet the Author

This page is dedicated to all the art, poetry, literature, music, nature, solitude and book lovers. Do what makes your soul happy. Love and Peace. - D

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Showing posts with label Poetry. Show all posts
Showing posts with label Poetry. Show all posts

Sunday, August 26, 2018

Thursday, April 12, 2018

بظاہر تو معطل ھے



بظاہر تو معطل ھے 
ہمارا رابطہ لیکن 
تصور میں تمہیں لا کر میں 
ڈهیروں باتیں کرتی ہوں


Monday, March 26, 2018

وہ لفظوں اور جذبوں کی رفاقت کا نہیں قائل





وہ لفظوں اور جذبوں کی رفاقت کا نہیں قائل
جہاں چاہے --، کہانی کا تسلسل توڑ دیتا ہے




Friday, March 23, 2018

ماضی پہ گفتگو سے وہ گھبرا رہے تھے آج



ماضی پہ گفتگو سے وہ گھبرا رہے تھے آج 
میں نے بھی بات ووہی آج بار بار کی



Friday, February 9, 2018

ابھی نہ جاوُ محفل کو چھوڑ کر





ابھی نہ جاوُ محفل کو چھوڑ کر


ابھی تمہارے قصّے کی سوغات باقی ہے


ابھی تو شروع بھی نہیں کی تمہاری غزل


ابھی ان گناہگار آنکھوں کی برسات باقی ہے



مجھ سے نہیں کٹتی ____ یہ اداس راتیں




مجھ سے نہیں کٹتی ____ یہ اداس راتیں 
کل سورج سے کہوں گئ __ مجھے لے کر ڈوبے 



میرے تمام خواب مرے دل میں رہ گئے





میرے تمام خواب مرے دل میں رہ گئے 
میرا تو ساری عمر کا نقصان ہو گیا ۔



نہ گلا ہے کوئی حالات سے نہ شکایتیں کسی کی ذات سے





نہ گلا ہے کوئی حالات سے نہ شکایتیں کسی کی ذات سے
خود ہی سارے ورق جدا ہو رہے ہیں میری زندگی کی کتاب سے



یہ خوش لباسی لبادہ ہے غم چھپانے کا




یہ خوش لباسی لبادہ ہے غم چھپانے کا
اگرچہ اُجڑے ہوئے ہیں مگر سجے ہوے ہیں





اس کا ہنسنا مجھے بھاتا تھا سو وہ شخص




اس کا ہنسنا مجھے بھاتا تھا سو وہ شخص 
بال کھولے ہوئے ہنستا ہی رہا میرے بعد



میں عمر کے رستے میں ، چُپ چاپ بکھر جاتا




میں عمر کے رستے میں ، چُپ چاپ بکھر جاتا
ایک روز بھی گر اپنی ، تنہائی سے ڈر جاتا
محروم فضاوں میں ، مایُوس نظاروں میں 
تم عزم نہیں ٹھہرے ، میں کیسے ٹھہر جاتا ؟؟

میں ترکِ تعلق پہ زندہ ہوں ، سو مجرم ہُوں




میں ترکِ تعلق پہ زندہ ہوں ، سو مجرم ہُوں 
کاش اُس کے لیے جیتا ، اپنے لیے مَر جاتا

دستک دے کر چھپ جاتے ہو



دستک دے کر چھپ جاتے ہو
اندر سے اب تک بچے ہو
اپنے آپ سے لڑتے لڑتے
اپنا آپ گنوا بیٹھے ہو



ہجر ایسا ہو کہ چہرے پہ نظر آ جائے





ہجر ایسا ہو کہ چہرے پہ نظر آ جائے 
زخم ایسا ہو کہ دِکھ جائے دِکھانا نہ پڑے



زخم ایسے تھے کہ ہر شخص کے آگے رکّھے




زخم ایسے تھے کہ ہر شخص کے آگے رکّھے
بات ایسی تھی کہ خود سے بھی چُھپائی میں نے


میں یہ لمحہ قید رکھوں گا





میں یہ لمحہ قید رکھوں گا
تم میرے دکھ پر تڑپے ہو
مَیں کا زعم اور عشق کی بازی؟
کیا کرتے ہو، کیاکرتے ہو

ہـم بـارگاہ عشــق میـں مقبول یـوں ھـوۓ




ہـم بـارگاہ عشــق میـں مقبول یـوں ھـوۓ
خـود سے بچھـڑ گئے تیـری قـربت کے شـوق میـں


Friday, January 19, 2018

شب کا سکوت دل کے اندھیروں میں آ بسا




شب کا سکوت دل کے اندھیروں میں آ بسا
ھونے لگی نگاہ کو وحشت سی خواب سے



فاصلہ مُشت بھر سہی لیکن




فاصلہ مُشت بھر سہی لیکن
وہ میری دسترس سے باہر ہے



پھر یوں ھواکہ




پھر یوں ھواکہ
خواب سے اٹھنا پڑا مجھے
پھر یوں ھوا کہ،
عشق کی وحشت تمام شد
_________________________