جنون کی حد کو چھوتی محبتیں کہاں پائی جاتی ہیں کہ جس میں صرف ایک دل دوسرے دل سے مربوط ہو
جس میں دماغ پر جتنی دفعہ زور ڈال کر اس سے حواس میں لوٹنے کی گذارش کی جائی ۔۔ دماغ اتنی ہی دفعہ اس گذارش کو سند قبولیت دینے سے انکاری ہو
صورت سے مبرا
غرض سے پاک محبت ۔۔۔۔۔
مگر اسکی محبت یوں ہی ہے ۔۔۔۔
جس میں محبت کے تمام درجات میں سے ایک جنون کا درجہ غالب ہے ۔۔۔۔
مجھے ہلکی سی خراش آئے تو اسکا دل گویا کسی گرم سیاہ توے پر تیز آنچ پر پک رہا ہو ، جل رہا ہو
میں ھنس پڑوں تو اسکی آنکھیں مسرت کے مارے پانیوں سے یوں بھرجائیں گویا سالوں کی قحط سالی کے بعد کوئ بنجر زمین سیراب ہوئی ہو
میں کوئی غزل گنگنالوں وہ گنگ رہ جائے جیسے کسی طلسم کے حصار میں ہو
میں کانپ سی جاتی ہوں ۔۔۔ ڈر سی جاتی ہوں
بھلا کہاں پائی جاتی ہے ایسی جنون خیز محبت ۔۔۔۔
میں وہ سانولی ۔۔۔ جو آئینہ تھام لوں تو آئینے کی سفیدی کو میرے چہرے کی سیاہی بدنما سا کر ڈالے ۔۔۔۔
🖤
جس پر نظر نہ ٹھرسکے ۔۔۔۔
جو سیاہ لباس تن پہ سجالے تو اسی سیاہی کا حصہ ہی لگے
مگر نجانے یہ کیا جذبہ ہے ۔۔۔۔ کہ یہ سیاہی اسکے دل کو کھینچی چلی جاتی ہے ۔۔۔۔
کیسی محبت ہے جسے سادگی سے غرض ہے ۔۔۔
کیسا شخص ہے جسے ھجوم میں سراہی جانے والی لڑکی کی نہیں بلکہ ھجوم میں نہ دکھائی دینے والی لڑکی کی طلب ہے
🖤
No comments:
Post a Comment