Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Sunday, July 16, 2017

کہتے ہیں آگے تھا بُتوں میں رحم





کہتے ہیں آگے تھا بُتوں میں رحم
ہے خُدا جانیے یہ کب کی بات




رہ رہ کے دردِ عشق کی آسودگی بڑھی





رہ رہ کے دردِ عشق کی آسودگی بڑھی
رہ رہ کے یاد آئی ہمیں چارہ گر کی بات



ہم اپنے دل کی بات تبسم نہ کہہ سکے





ہم اپنے دل کی بات تبسم نہ کہہ سکے
ہوتی رہی ہے یوں تو نظر سے نظر کی بات



تم اپنی چارہ گری کو نہ پھر کرو رُسوا




تم اپنی چارہ گری کو نہ پھر کرو رُسوا
ہمارے حال پہ چھوڑو ہمارے حال کی بات


کیا پوچھتے ہو رہروِ منزل کی سرگزشت




کیا پوچھتے ہو رہروِ منزل کی سرگزشت

کچھ راہزن کی بات ہے کچھ راہبر کی بات



وہ نہیں ہے تو یونہی دل کو دُکھانے کے لئے




وہ نہیں ہے تو یونہی دل کو دُکھانے کے لئے
چھیڑ دی ہم نے کسی یارِ دل آزار کی بات



خود کو تنہا نہ سمجھ لینا نئے دیوانو




خود کو تنہا نہ سمجھ لینا نئے دیوانو
خاک صحراؤں کی ہم نے بھی اڑا رکھی ہے۔



کِس جانِ گُلِستاں سے یہ ملِنے کی گھڑی تھی


کِس جانِ گُلِستاں سے یہ ملِنے کی گھڑی تھی
خوشبوُ میں نہائی ہُوئی اِک شام کھڑی تھی

میں اُس سے ملی تھی کہ خُود اپنے سے مِلی تھی
وہ جیسے مِری ذات کی گُم گشتہ کڑی تھی

ہم انمول تو نہیں





ہم انمول تو نہیں

مگر بارش کے ان

قطروں کی طرح خاص 

ضرور ہیں 

جو ہاتھ سے گر جائیں تو 

پھر کبھی ملا نہیں کرتے



دونوں کو آ سکیں نہ نبھانی محبتیں


دونوں کو آ سکیں نہ نبھانی محبتیں 
اب پڑ رہی ہیں ہم کو بھلانی محبتیں

کن کن رفاقتوں کے دیئے واسطے مگر 
اس کو نہ یاد آئیں پرانی محبتیں
')