Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Showing posts with label شاعرات. Show all posts
Showing posts with label شاعرات. Show all posts

Thursday, November 24, 2016

فہمیدہ ریاض





سوال: پھر باقاعدہ شاعری کب سے شروع کی؟

ف ر: وہ تو کالج کے زمانے ہی میں۔ زبیدہ گورنمنٹ کالج حیدرآباد۔ سب کو نیشنلائیز کر لیا گیا تھا لیکن وہ تو شاید تھا ہی سرکاری کالج۔ بڑی اچھی جگہ تھا اور بڑا سا آسمان تھا اس پر۔ خاصا کھلا ہوا تھا اب تو نا جانے کیسا ہو گیا ہو؟ کالج کے زمانے میں نظمیں لکھنے لگی تھی۔ کبھی کبھی کسی کو سنا بھی دیں۔ کسی نے مجھ سے کہا کہ آپ بھیج دیں۔ اس زمانے میں ’فنون‘ شروع ہوا تھا یہ سکسٹی تھری کی بات ہے یا سکسٹی فور ہو گا۔ تو میں نے نظمیں بھیجیں اور وہ شائع ہو گئیں بس اس طرح آغاز ہوا۔ 

سوال: پہلی نظم کون سی شائع ہوئی؟

ف ر: یہ تو مجھے اب یاد نہیں ہے ’پتھر کی زباں‘ پہلے مجموعے کا نام تھا۔ سکسٹی سیون میں شائع ہوا۔ اس میں وہ نظم ہے۔ فنون میں وہ ایک نہیں تین چار نظمیں اکٹھی شائع ہوئی تھیں۔ اس کے بعد میں فنون میں ہی لکھتی رہی۔ اب تو کچھ عرصے سے میں نثر زیادہ لکھ رہی ہوں۔ سات آٹھ سال سے۔ 
سوال: بنیادی تشخص آپ کا شاعرہ کا ہے۔ اور اتنے عرصے سے شعر کہہ رہی ہیں آپ کو کیا لگتا ہے کیا بنیادی بات آپ نے کہنے کی کوشش کی؟

ف ر: دیکھیے کبھی کبھار تو آپ کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن زیادہ تر تو آپ وہ لکھتے ہیں جو آپ کے دل پر گزر رہی ہوتی ہے۔ یا تو کوئی چیز جو آپ کو بہت اچھی لگے یا کسی چیز سے آپ کو بہت گہرا دکھ ہو۔ تو رسمی طریقے سے وہ ایک شعر بن جاتا ہے اور آپ اسے لکھ ڈالتے ہیں۔ 

سوال: کیسے آتی ہے نظم اور کیسے پھر وہ صفحے تک جاتی ہے؟

ف ر: یہ بڑا ہی مسٹیریس عمل ہے۔ بعض اوقات تو کوئی صورتِ حال ہے اور ایک لفظ آپ کے دماغ میں آتا ہے، اور بعض اوقات تو ایک لفظ کے گرد ایک نظم بن جاتی ہے۔ ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے کہ کچھ الفاظ ہوتے ہیں جو آتے ہیں آپ ان کے گرد بناتے ہیں سارا تانا بانا۔ 

سوال: کچھ نظمیں آپ کی سیاسی ہیں۔ کچھ واقعاتی بھی ہیں؟

ف ر: سیاست ایسا نہیں ہے کہ آپ کی ذاتی زندگی سے الگ کوئی چیز ہو۔ خود میری نسل جس دور میں پلی بڑھی، آپ ساٹھ کی دہائی لے لیجیے، تو وہ دور خود پاکستان میں ایک تبدیلی کا دور تھا۔ وہ ایوب خان کا دور تھا۔ ایوب خان کے خلاف ایک سٹوڈنٹ موومنٹ شروع ہوئی تھی۔ کراچی سے شروع ہوئی تھی اور اس وقت ہم سٹوڈنٹ تھے اور ہم بھی اس میں شامل تھے ایک نئی دنیا بنانے کا ولولہ سا تھا جو صرف پاکستان ہی میں نہیں تھا۔ ساری دنیا ہی میں تھا۔ لوگوں کی جدوجہد کا ایک دور۔ نظام تبدیل ہو رہے تھے، حکومتوں کے تختے الٹے جا رہے تھے۔ خصوصاً ان ملکوں میں پوسٹ کالونیل جنہیں آپ کہہ سکتے ہیں۔ چاہے وہ فرانس، چاہے جرمنی اور چاہے وہ انگلینڈ ہو انہوں نے اپنی کالونیز (نوآبادیات) چھوڑی تھیں اور ان کے معاشروں میں ایک اتھل پتھل تھی ایک ایسی تبدیلی کی خواہش جو آ رہی تھی اور آنا چاہتی تھی۔ نوآبادیاتی نظام سے نکلنے والی دنیا میں ایک نئے نظام کا خواب تھا۔ جو سماجی برابری کا اور انصاف کا اور وہ قابلِ حصول لگ رہا تھا اس وقت کیونکہ چند ایک ممالک تھے جن میں تبدیلیاں آئی تھیں اور یہ ایک بڑی انسپریشن تھی، تو ان حالات میں بہت سوچ سمجھ رکھنے والا پڑھا لکھا شخص کوئی نہ کوئی سٹینڈ لے رہا تھا۔ گو کہ اس وقت یہ تحریکیں اتنی مضبوط نہیں تھیں لیکن ان میں ایسے بھی تھے جو مذہبی تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارا مطمعِ نظر ہونا چاہیے۔ اس میں جو نمایاں فکری عنصر تھا وہ سوشلسٹ معاشرہ قائم کرنا چاہتا تھا۔ میں بھی اس میں شامل تھی یقیناً، اور صرف میں ہی کیوں، بلاشبہ میں نے سیاسی نظمیں لکھی ہیں، جیسے کہ میں تمہیں بتایا ہے کہ میری جو پہلی نظم تھی وہ بھی کوئی ایسی رومان پرور نہیں تھی۔ حالانکہ عشق بہت بڑا محرک ہوتا ہے شاعری کے لیے، آپ سے شعر کہلوانا شروع کر دیتا ہے عشق لیکن اس وقت ہمارے پس منظر میں آپ دیکھیں تو فیض صاحب تھے۔قاسمی صاحب کی شاعری تھی، مجاز کی بھی شاعری تھی۔ مجروح سلطان پوری کی شاعری تھی، ساحر لدھیانوی کی شاعری تھی۔ یہ تھا وہ پس منظر جس میں ہم نے لکھنا شروع کیا۔ تو اس میں گہری سیاسی وابستگی تھی اور اب بھی رہتی ہے۔ 

سوال: ایک تو یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی آپ کے ارد گرد ہو رہا ہوتا ہے چاہے وہ سیاسی ہو غیر سیاسی ہو، سماجی نوعیت کا ہو، ذاتی نوعیت کا ہو، اجتماعی ہو انفرادی ہو، آپ کو متاثر کرتا ہے لیکن کچھ ایسے سیاسی واقعات بھی ہوتے ہیں، آپ ایک ملک میں رہ رہے ہوتے ہیں اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ دنیا کے دوسرے واقعات سے زیادہ آپ کو متاثر کرتا ہے اور یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے لیکن جیسے آپ نے بھٹو صاحب کے دور میں بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بارے میں ایک نظم لکھی تھی، حلقے میں پڑھی تھی، تو ایسے واقعات آپ کے ہاں شعری شکل کیسے اختیار کرتے ہیں؟

ف ر: سیاسی واقعات میں ایسا ہوتا ہے کہ وہ آپ کو بہت گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں۔ ایک بے چینی پیدا کرتے ہیں اور آپ ٹہلنے لگتے ہیں اور لکھنے لگتے ہیں جب تک پورا تصور بن کر سامنے نہ آ جائے اور پھر آپ اسے تھوڑا بہت سجا سنوار نہ لیں۔ یعنی یہ دوسرا مرحلہ کہ آپ اس کی تراش خراش کرتے ہیں۔ لیکن پہلا تو بہت ہی پُراسرار ہے اور سچ تو یہ ہے کہ شاعر اس کے بارے میں بہت کم جانتا ہے۔ اور ہر بار یہ ایک طرح سے ہوتا بھی نہیں ہے۔ ہر مرتبہ کوئی نئی ہی چیز ہوتی ہے لیکن یہ درست ہے کہ مجھے نظم لکھنے کےلیے کبھی اس طرح کی چیزوں کی ضرورت نہیں ہوئی۔ میں نے ایک دو نظمیں تو رکشہ میں بھی بیٹھ کر لکھی ہیں کیونکہ وہ اسی وقت خیال آ رہے تھے اور اسی وقت لکھیں۔ یہ میں نے محسوس کیا ہے کہ جو پہلا پہلا امپیکٹ ہوتا ہے آپ کے ذہن پر آپ کے دل پر وہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اسے اگر اسی وقت نہ لکھ نہ لیا جائے نہ تو بعد میں آپ اسے پکڑ نہیں پاتے۔ ایسے ہی ہے کوئی وقت ہوتا ہے، کوئی آن، کوئی پل جو آپ کےساتھ کچھ کر رہا ہے، کچھ الفاظ ہیں جو آپ کے ذہن میں آ رہے ہیں اور ایک طرح سے آ رہے ہیں۔ کچھ امیجز ہیں جو آ رہے ہیں، آپ اس وقت انہیں لکھ نہیں دیں گے تو پھر وہ بھاگ جائیں گے۔ آپ کے ہاتھ پھر نہیں آنے والے۔ 





کشور ناہید





کشور ناہید پاکستان کی ادبی حلقوں میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں ۔ وہ ایک حساس دل کی ملک ہیں ملک کے سیاسی اور سماجی حالات پر اُن کی گہری نظر ہے۔ ایک عرصے سے وہ روزنامہ جنگ میں کالم لکھ رہی ہیں۔ کشور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر کام کرتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی سال تک ادبی جریدے ماہِ نو کی ادارت کے فرائض بخوبی انجام دیتی رہی ہیں۔ 


آجکل وہ اسلام آباد میں سکونت پزیر ہیں

ابتدائی حالات


کشور ناہید 1940 میں بلند شہر (ہندوستان) میں ایک قدامت پسند سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد آٹھویں جماعت میں تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ وہ راج گھاٹ نرودا کے مینجر تھے۔کشور کے نانا فضل الرحمان وکالت کرتے تھے مگر لڑکیوں کی تعلیم کے قائل نہ تھے۔ کشور کی والدہ صرف قرآن ناظرہ اور بہشتی زیور پڑھ سکیں تھیں۔مگر انہوں نے اپنی اولاد کو تعلیم دلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ کشور کے گھرانے میں عورتیں پردے کی پابند تھیں سات سال کی عمر میں کشور کو بھی برقع پہنا دیا گیا تھا۔



حالات زندگی


ایک قدامت پسند گھٹے ہوئے ماحول میں پرورش پانے والی کشور نے اپنی زندگی کے تمام فیصلے روایت سے ہٹ کر کئے۔ نویں جماعت سے انہوں نے اخبار میں لکھنا شروع کیا۔ میٹرک کے بعد اپنی ضد منوا کر کالج میں داخلہ لیا۔ فرسٹ ایر سے ہی شعر کہنے کا سلسلہ شروع ہوا۔گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود اُن کا علمی ادبی سفر جاری رہا۔ تعلیمی دور تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں اور ان کا کلام ادبی رسائل میں چھپتا رہا۔ پنجاب یونیورسٹی میں معاشیات میں ایم اے کے دوسرے سال میں تھیں جب گھر والوں کو یوسف کامران کے ساتھ اُن کی دوستی کا علم ہوا۔ ایک ایسے گھرانے میں جہاں رشتے کے بھائیوں سے بات کرنا بھی ممنوع تھا وہاں یہ خبر قیامت سے کم نہیں تھی۔ اس جرم کی پاداش میں کشور اور یوسف کا نکاح پڑھوا دیا گیا۔ کشور کی شادی گو کہ پسند کی شادی تھی مگر اُن کے ازدواجی حالات کچھ اایسے خوشگوار نہ تھے۔کشور اور یوسف کے دو صاحبزادے ہیں۔ یوسف کامران 1984میں انتقال کر گئے۔

ادبی خدمات


اُن کا اولین شعری مجموعہ لبِ گویا 1968میں منظرِ عام پر آیا۔ اور اسے خوب پذیرائی بھی ملی


اعزازات

ایوارڈ


آدم جی ایوارڈ (لب گویا ) 1969


(یونیسکو ادب برائے اطفال ایوارڈ(دیس دیس کی کہانیاں)


(کولمبیا یونی ورسٹی (بہترین مترجمہ)


منڈیلا ایوارڈ 1997


ستارۂ امتیاز 2000






کشور ناہید پر لکھے گئے مقالات 


مقالات ایم فل


فہمیدہ ریاض+ کشور ناہید اور پروین شاکر کی شاعری میں عورت کا شعورِ ذات ،شہناز پروین نگران ڈاکٹر روبینہ ترین، بہاءالدین زکریا یونیورسٹی. ملتان ،2004ء


مقالات ایم اے


کشور ناہید- شخصیت اور فن ،محمد افضل شیخ نگران ڈاکٹر انوار احمد، بہاءالدین زکریا یونیورسٹی. ملتان، 1988ء


اُردو کی دو آپ بیتیوں "بُری عورت کی کتھا (کشور ناہید) اور ہم سفر (حمیدہ اختر رائے پوری) کا تجزیاتی مطالعہ ،نادیہ فریال نگران ڈاکٹر قاضی عابد ،بہاءالدین زکریا یونیورسٹی .ملتان ، 2000ء


کتابیات

پاکستانی اہلِ قلم کی ڈائریکٹری مُرتبین فرید احمد + حسن عباس رضا ،اکادمی ادبیات پاکستان .اسلام آباد 1979ء ص 359


تاریخ اور روایات (1975ء-2007ء) ،ڈاکٹر روبینہ ترین + ڈاکٹر قاضی عابد ،ملتان، شعبہ اُردو بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ، 2007ء ص ،37،


(کتابیات (کشور ناہید شناسی)


"پاکستانی ادب کے معمار" کشور ناہید - شخصیت اور فن ،ڈاکٹر شاہین مفتی ،اسلام آباد، اکامی ادبیات پاکستان


رسائل


ماہنامہ "ادب لطیف" لاہور 5 ، مئی 1981ء


تاثرات


اپنی شاعری میں ایسے نسوانی جذبات اور مسائل کا برملا اظہار کیا ہے جنہیں بیان کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ایک حقیقت پسند خاتون قرار دیتی ہیں جو حالات یا معاشرے کے جبر کا شکار بننے سے منکر رہی ہیں۔ وہ عورت کے ساتھ روا رکھی جانے والی معاشرتی ناانصافیوں کو لگی لپٹی رکھے بغیر تلخ و ترش سچے الفاظ میں بیان کر دیتی ہیں۔ ایسے میں اکثر ناقدین اُن کی شاعری کو سپاٹ، کھردری اور غنائیت سے محروم قرار دیتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں عورت کا وجود اس کا احساس اور اسی کی آواز گونجتی ہے۔


تصانیف

کشور کے کلام کا انگریزی اور ہسپانوی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ کشور نے خود بھی کئی کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے اس کے علاوہ بچوں کے لئے بھی لکھتی رہی ہیں۔


باقی ماندہ خواب


عورت زبانِ خلق سے زبانِ حال تک


عورت خواب اور خاک کے درمیان


خواتین افسانہ نگار 1930 سے1990تک


زیتون


آ جاؤ افریقہ


بری عورت کی کتھا


بری عورت کے خطوط: نا زائیدہ بیٹی کے نام


سیاہ حاشیے میں گلابی رنگ


بے نام مسافت


لبِ گویا


خیالی شخص سے مقابلہ


میں پہلے جنم میں رات تھی


سوختہ سامانیء دل


کلیات دشتِ قیس میں لیلی


لیلی خالد


ورق ورق آئینہ


شناسائیاں رسوائیاں


وحشت اور بارود میں لپٹی



ہوئی شاعری(زیرِ طبع)


ادا جعفری





ادا جعفری اردو زبان کی معروف شاعرہ تھیں۔ آپ کی پیدائش 22 اگست 1924ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا خاندانی نام عزیز جہاں ہے۔ آپ تین سال کی تھیں کہ والد مولی بدرالحسن کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد پرورش ننھیال میں ہوئی۔ ادا جعفری نے تیرہ برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی ۔وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں۔ اس وقت ادبی رسالوں میں ان کا کلام شائع ہونا شروع ہوگیا تھا ۔ آپ کی شادی 1947ء میں نور الحسن جعفری سے انجام پائی شادی کے بعد ادا جعفری کے نام سے لکھنے لگیں۔ ادا جعفری عموماً اختر شیرانی اور اثر لکھنوی سے اصلاح لیتی رہی ۔ ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ جو رہی سو بے خبری رہی کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغا امتیاز سے نوازا۔ وہ کراچی میں رہائش تھیں ۔ (ادا جعفری کی خؤدنوشت جو رہی سو بے خبری رہی کا سرورق اس لنک پر دیکھا جاسکتا ہے: 

شاعری

ادا جعفری موجودہ دور کی وہ شاعرہ ہیں جن کا شمار بہ اعتبار طویل مشق سخن اور ریاضت فن کے صف اول کی معتبر شاعرات میں ہوتا ہے۔ وہ کم و بیش پچاس سال سے شعر کہہ رہی ہیں ۔ گاہے گاہے یا بطرز تفریح طبع نہیں بلکہ تواتر و کمال احتیاط کے ساتھ کہہ رہی ہیں۔ اور جو کچھ کہہ رہی ہیں شعور حیات اور دل آویزی فن کے سائے میں کہہ رہی ہیں۔ حرف و صورت کی شگفتگی اور فکر و خیال کی تازگی کے ساتھ کہہ رہی ہیں۔ فکرو جذبے کے اس ارتعاش کے ساتھ کہہ رہی ہیں جس کی بدولت آج سے تیس چالیس سال پہلے ان کا شعر پہچان لیا جاتا تھا۔

ماحول

ادا جعفری کے شعری سفر کا آغاز ترقی پسند تحریک کے عروج کے وقت ہوا۔ اس وقت دوسری جنگ عظیم کی بھونچالی فضا اور پاک و ہند کی تحریک آزادی کا پر آشوب ماحول تھا۔ یہ فضا بیسویں صدی کی پانچویں دہائی یعنی 1940ء اور 1950ء کے درمیانی عرصے سے خاص تعلق رکھتی ہے۔ یہ دہائی سیاسی اور سماجی اور شعری و ادبی ، ہر لحاظ سے پر شعور و ہنگامہ خیز دہائی تھی۔ تاج برطانیہ ہندوستان سے اپنا بستر بوریا سمیٹ رہا تھا اور نئی بساط سیاست بچھ رہی تھی۔ پاکستان اور ہندوستان کے نام سے دو آزاد مملکتیں وجود میں آئیں۔

نور کی تلاش

1950ء تک زندگی کے شب کدے میں ادا جعفری کو جس نور کی تلاش تھی وہ اسے مل گیا ہے اور اس نور نے ان کی بساط جسم و جاں پر بہت خوشگوار اثر ڈالا ہے۔ خواب و خیال کی دھندلی راہوں میں امید کی چاندنی چٹکا دی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے دوپہر کی کڑی دھوپ میں چلنے والے تھکے ماندے مسافر کو دیوار کا سایہ میسر آگیا ہے۔ اس دیوار کے سائے میں ادا جعفری کی زندگی میں بہت نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ داخلی دنیا کے ہنگاموں میں قدرے ٹھہراؤ آیا ہے اور خارجی دنیا پر تازہ امنگوں کے ساتھ جرات مندانہ نگاہ ڈالنے کا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔


اب ان کے لیے زندگی کی کوئی خوشی یا کوئی غم محض ذاتی یا محض کائناتی نہیں رہا بلکہ دونوں ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو گئے ہیں کہ ان کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ یوں کہنا چاہیے کہ ذات و کائنات میں وہ دوئی جس نے 1950ء سے کچھ پہلے تک ان کے دروں خانہ جاں میں تضاد و تصادم کی ایک کرب آلودہ فضا پیدا کر رکھی تھی اب وہ باقی نہیں رہی ۔ پہلے ان کی نظر ماضٰ اور حال پر مرکوز تھی ، اب ان سے آگے بڑھ کر مستقبل کو خوش آئند بنانے اور نژاد نو کو زندگی کی تازہ بشاتوں سے ہمکنار کرنے کی جستجو میں ہے ،وہ خود کہتی ہیں۔


میری آغوش میں ہمکتا ہوا چاند ، فردا کے خوابوں کی تعبیر ہے


یہ نئی نسل کے حوصلوں کا امین آنے والے زمانے کی تقدیر ہے


یہ خواب کشاں کشاں انہیں ایک نئے موڑ پر لے آیا۔ پہلے وہ صرف درد آشنا تھیں اب ’’شہر درد‘‘ کے بیچوں بیچ آبسیں۔ ’’شہر درد ‘‘ چونکہ امیر غریب ، عام و خاص ، محبوب محب اور اپنے پرائے سب کا ہے اس لیے ’’مرگ انبوہ جیے دارد‘‘ کے مصداق ہے ۔ ہر چند کہ اس کی وسعتیں ان کی وحشت جاں کے لیے صحرا جیسی سازگار تو نہیں تاہم فرزانگی کو شرمسار کرنے اور پائے جنوں کو جنبش میں لانے کے لیے بہت ہیں۔

ہائیکو

ادا جعفری نے جاپانی صنف سخن ہائیکو پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی ہائیکو کا مجموعہ ’’ساز سخن ‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ اس میں بھی ادا جعفری نے صغائے حیات اور سائل کائنات کو موضوع بنایا ہے۔ اور کامیابی سے اردو ہائیکو کہیں ہیں۔ان کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ انہی کی رہنمائی و پیش قدمی نے نئی آنے والی پود کو حوصلہ دیا ہے اور نئی منزلوں کا پتہ بتایا ہے بلاشبہ وہ اردو شاعری میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

وفات

مختصر علالت کے بعد 12 مارچ، 2015ء کو آپ کا انتقال ہو گیا۔

تصانیف

(میں ساز ڈھونڈتی رہی 1950(شاعری


(شہر درد 1967 (شاعر)


(غزالاں تم توواقف ہو 1974 (شاعر)


(ساز سخن بہانہ ہے1982 (شاعری


(حرف شناسائی (شاعری


(موسم موسم (کلیات2002ء


(جو رہی سو بے خبری رہی 1995 ( خود نوشت)

زہرا نگاہ




پیدائش فاطمہ زہرہ14 مئی 1937 ‏(79)حیدرآباد، دکن، برطانوی ہندوستان


قلمی نام زہرا نگاہ


پیشہ شاعرہ


زبان اردو


نسل مہاجر


شہریت پاکستان کا پرچمپاکستانی


صنف غزل، نظم


نمایاں کام شام کا پہلا تارا


ورق


اہم اعزازات صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی

حالات زندگی


محترمہ زہرا نگاہ 14 مئی، 1937ء حیدرآباد، دکن، برطانوی ہندوستان میں علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں. ان کا اصل نام فاطمہ زہرہ ہ ہے۔ آپ کے والد قمر مقصود کا شمار بدایوں کے ممتاز لوگوں میں ہوتا ہے۔ جبکہ مشہور ڈراما نویس فاطمہ ثریا بجیا آپ کی بڑی بہن اور مقبول عام ہمہ جہت رائٹر انور مقصود بھائی ہیں۔ زہرا نگاہ کا خاندان تلاش معاش میں حیدر آباد دکن میں آباد ہو گیا۔ تقسیم ہند کے بعد زہرا نگاہ اپنے خاندان کے ساتھ حیدر آباد دکن سے ہجرت کر کے کراچی آ گئیں اور یہیں پر اپنی تعلیم مکمل کی۔


زہرا نگاہ کو شعر و سخن کا ذوق ورثہ میں ملا۔ اس لئے آپ نے صرف گیارہ سال کی عمر میں ایک نظمگڑیا گڈے کی شادی لکھی۔ زہرا نگاہ نے جگر مراد آبادی کو اصلاح کی غرض سے ابتدائی کلام دکھایا مگر جگر مراد آبادی نے یہ کہہ کر اصلاح سے انکار کر دیا کہ تمہارا ذوقِ مستحسن خود ہی تمہارے کلام کی اصلاح کر دے گا۔ 

تنقیدی جائزہ

زہرا نگاہ کے کلام میں روزمرہ کی زندگی کے جذباتی معاملات ہیں، جنہیں زہرا صنف نازک کی شاعری کہتی ہیں۔ جیسے ملائم گرم سمجھوتے کی چادر، قصیدہ بہار، نیا گھر، علی اور نعمان کے نام، سیاسی واقعات کے تاثرات بھی، وہ وعدہ بھی جو انسانوں کی تقدیروں میں لکھا ہے اور محض تغزل بھی۔ ان منظومات میں نہ جدیدیت کے غیر شاعرانہ جذبات کا کوئی پرتو ہے اور نہ رومانویت کی شاعرانہ آرائش پسندی کا کوئی دخل ہے۔ روایتی نقش و نگار اور آرائشی رنگ و روغن کا سہارا لیے بغیر شعر کہنا زہرا نگاہ کے شعری اسلوب کا خاصا ہے۔ تشبیہ و استعارے سے عاری ایک آدھ بلیغ مصرع جس سے پوری نظم کا سراپا جھلملانے لگے، اس کی سب سے اچھی مثال زہرا کی نظم شام کا پہلا تارا ہے۔ان کی تخلیقات میں شام کا پہلا تارا ، ورق اور فراق شامل ہیں۔


نمونۂ کلام


غزل


جنونِ اولیں شائستگی تھی​ وہی پہلی محبت آخری تھی


کشادہ تھے بہت بازوِ وحشت​ یہ زنجیرِخرد الجھی ہوئی تھی​


جہاں ہم پھر سے بسنا چاہ رہے تھے​ وہ بستی ہُو کی دنیا ہو چکی تھی​


کبھی اک لفظ کے سو سو معانی​ کبھی ساری کہانی اَن کہی تھی​


اب اپنے آپ سے بھی چُھپ گئی ہے​ وہ لڑکی جو سب کو جانتی تھی​​


سحر آغاز، شب اتمامِ حجت​ عجب زہرا کی وضعِ زندگی تھی​



اعزازات


حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے صلے میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطاکیا۔



تصانیف


شام کا پہلا تارا


ورق


مجموعہ کلام کلیات


فراق

سارا شگفتہ




سارہ شگفتہ 31 اکتوبر، 1954ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ اردو اور پنجابی میں شاعری کرتی تھیں۔ ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔


حالات زندگی


غریب اور ان پڑھ خاندانی پس منظر کے باوجود وہ پڑھنا چاہتی تھیں مگر میٹرک بھی پاس نہ کر سکیں۔ان کی سوتیلی ماں، کم عمر کی شادی اور پھر مزید تین شادیوں(ان کے دو شوہر شاعر تھے) نے انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔انہیں دماغی امراض کے ہسپتال بھیجا گیا جہاں انہوں نے خودکشی کی ناکام کوشش کی۔

شعری مجموعے


سارا شگفتہ کی پنجابی شاعری کے مجموعے 'بلدے اکھر'، 'میں ننگی چنگی' اور 'لکن میٹی' اور اردو شاعری کے مجموعے 'آنکھیں' اور 'نیند کا رنگ' کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے۔


وفات

جون، 1984ء کو انہوں نے کراچی میں ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی۔


ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت پر امرتا پرتیم نے 'ایک تھی سارہ' اور انور سن رائے نے 'ذلتوں کے اسیر' کے نام سے کتابیں تحریر کیں اور پاکستان ٹیلی وژن نے ایک ڈراما سیریل پیش کیا جس کا نام 'آسمان تک دیوار' تھا۔

پروین شاکر





پیشہ اردو شاعر


قومیت پاکستانی


نسل اردو


تعلیم ایم اے انگریزی ادب، بینک ایڈمنسٹریشن; پی ایچ ڈی


صنف غزل; آزاد نظم


نمایاں کام خوشبو


اہم اعزازات صدارتی تمغا حسن کارکردگی


آدم جی اعزاز


شریک حیات سید نصیر علی


اولاد سید مراد علی


پروین شاکر: پروین شاکر کو اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوپاتی ہے۔


ابتدائی حالات


24 نومبر، 1954 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے۔ انہوں نےبچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبان دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔


حالات زندگی


سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990ء میں ٹرینٹی کالج جو امریکہ سے تعلق رکھتا تھا سےتعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔

ادبی خدمات


شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔


نمونہ کلام


یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے نہ گئے 


کیا پذیرائی ہو اُن کی جو بُلائے نہ گئے 


اب وہ نیندوں کا اُجڑنا تو نہیں دیکھیں گئے 


وہی اچھّے تھے جنھیں خواب دکھائے نہ گئے 


رات بھر میں نے کھُلی آنکھوں سے سپنا دیکھا 


رنگ وہ پھیلے کہ نیندوں سے چُرائے نہ گئے 


بارشیں رقص میں تھیں اور زمیں ساکت تھی 


عام تھا فیض مگر رنگ کمائے نہ گئے 


پَر سمیٹے ہوئے شاخوں میں پرندے آ کر 


ایسے سوئے کہ ہَوا سے بھی جگائے نہ گئے 


تیز بارش ہو ، گھنا پیڑ ہو ، اِک لڑکی ہو 


ایسے منظر کبھی شہروں میں تو پائے نہ گئے 


روشنی آنکھ نے پی اور سرِ مژگانِ خیال 


چاند وہ چمکے کہ سُورج سے بجھائے نہ گئے 






تخلیقات


انکی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔


(خوشبو (1976ء


(صد برگ (1980ء


(خود کلامی (1990ء


(انکار (1990ء


(ماہ تمام (1994


تاثرات


پروین شاکر کی پوری شاعری ان کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہا رہے جو درد کائنات بن جاتا ہے اسی لیے انہیں دور جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام حاصل ہے ۔ حالانکہ وہ یہ بھی اعتراف کرتی ہیں کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کشور ناہید، پروین فنا سید، فہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں ، لیکن ان کے یہاں احساس کی جو شدت ہے وہ ان کی ہم عصر دوسری شاعرات کے یہاں نظر نہیں آتی ۔ اُن کی شاعری میں قوس قزح کے ساتوں رنگ نظر آتے ہیں ۔ اُن کے پہلے مجموعے خوشبو میں ایک نوجوان دوشیزہ کے شوخ و شنگ جذبات کا اظہار ہے اور اس وقت پروین شاکر اسی منزل میں تھیں۔ زندگی کے سنگلاخ راستوں کا احساس تو بعد میں ہوا جس کا اظہار ان کی بعد کی شاعری میں جگہ جگہ ملتا ہے ۔ ماں کے جذبات شوہر سے ناچاقی اور علیحدگی، ورکنگ وومن کے مسائل ان سبھی کو انہوں نے بہت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔


وفات

26 دسمبر 1994ء کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں ، بیالیس سال کی 
عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔ لواحقین میں ان کے بیٹے کا نام مراد علی ہے۔



')