Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Showing posts with label مرزا غالب. Show all posts
Showing posts with label مرزا غالب. Show all posts

Wednesday, November 22, 2017

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہون





بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا 


دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا 


آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا 


گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی 


در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا 


وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو 


آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا 


جلوہ از بس کہ تقاضائے نگہ کرتا ہے 


جوہر آئنہ بھی چاہے ہے مژگاں ہونا 



عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ 


عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا 



لے گئے خاک میں ہم داغ تمنائے نشاط 


تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا 



عشرت پارۂ دل زخم تمنا کھانا 


لذت ریش جگر غرق نمکداں ہونا 



کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ 


ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا 



حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ 


جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا



بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے





بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے


ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے 


اک کھیل ہے اورنگ سلیماں میرے نزدیک 


اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے 

جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور 


جز وہم نہیں ہستی اشیا مرے آگے 


ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے 


گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے 



مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے 


تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے 


سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں 


بیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے 

پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار 


رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے 

نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا 


کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے 

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر 

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے 


عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام 


مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ میرے آگے 


خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے 


آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے 

ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو 


آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے 

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے 


رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے 

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا 

غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے



آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہوتے تک





آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہوتے تک 


کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک 

دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ 


دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک 


عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب 


دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک 


ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن 


خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک 


پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم 


میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک 

یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل 


گرمیٔ بزم ہے اک رقص شرر ہوتے تک 


غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج 


شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک


آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے





کہ مری جان کو قرار نہیں ہے 


طاقت بیداد انتظار نہیں ہے 

دیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے 


نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے 

گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو 


ہاے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے 


ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر 


خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے 


دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی 

غیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے 


قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے 


واے اگر عہد استوار نہیں ہے 

تو نے قسم مےکشی کی کھائی ہے غالبؔ 

تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے



')