Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Friday, January 19, 2018

تم جانتے ہو آج میں نے عرصہء دراز کے بعد تہجد پڑھی

 

 

تم جانتے ہو آج میں نے عرصہء دراز کے بعد تہجد پڑھی اور دعا میں ہاتھ اٹھے تو معافی مانگی .. تلافی چاہی .. ہدایت مانگی .. استقامت مانگی .. اپنے لیے .. تمہارے لیے.. بندہء خاکی کیلیے .. آنسو آنکھوں میں تھم ہی نہیں رہے تھے .. پھر میں نے رب سے دعا مانگی کہ وہ میری محبت کو سوز عطا کرے .. تڑپ عطا کرے اور اسے دنیا کی ہر مٹ جانیوالی خواہش سے پاک کر کے اوپر اٹھا لینے کے بعد ہم دونوں کو اپنے عشق کے قابل بنا کر ہمیں چن لے ..

 

 

جنت مائیگرین کے سبب اٹھنے والے درد کے باعث کنپٹیوں کو سہلاتے ہوئے اسے بتا رہی تھی.

میں اچھا نہیں ہوں جنت.

اس نے متانت سے استفسار کیا تھا.

تم بہت اچھے ہو زم زم .. اور یہ تم مجھے نہیں بتاو گے کہ تم اچھے ہو یا نہیں.. بارش کے قطروں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کس پر کس طور پڑتے ہوئے فرحت پہنچاتے ہیں .. یہ صرف وہ بتا سکتا ہے جو بھیگ رہا ہو اور میں ..

اس نے ایک سرد آہ بھر کر تاقف کیا تھا..

اور میں تمہاری چاہت کی بارش میں مسلسل بھیگ رہی ہوں. شمع کی لو کو جلتے ہوئے اپنے نیچے تاریکی دکھائی دیتی ہے مگر وہ نہیں جانتی کہ وہ کتنوں کو راستہ دکھاتی ہے..

اگر میں تمہیں دھوکا دے رہا ہوا تو?

اس نے بھنویں اچکا کر سوال کیا تھا.. جواب بلا تاویل و حجت دیا گیا تھا..

دھوکے کا سوال ہی نہیں مجھے اپنی محبت پر پورا یقین ہے.

وہ مسکرا رہی تھی مگر وہ نجانے کیا جاننے کی جستجو میں تھا.

اپنی پر کرو مگر میری محبت پر یقین نہ کرنا ..

یہ میرے اختیار میں نہیں. محبت میں میرا یقین میرے ایمان جیسا اندھا اور اٹوٹ ہے اور اگر تم یہ سب باتیں اس لیے کر رہے ہو کہ میں دور چلی جاوں تو اسکی ضرورت نہیں..

وہ پہلے سے کافی پر سکون دکھائی دے رہی تھی .. اسکی محبت میں دنیاوی غرض تھی ہی کہاں جو اسے اسکی ان باتوں سے فرق پڑتا وہ تو اب نا ہو کر بھی ہو چکا تھا .. اسکی تنہائی میں بس وہ ہی وہ تو تھا.

اچھا اگر میں ثبوت دے دوں کہ میں کسی اور سے بھی ..

جنت نے بات کاٹ دی تھی..

تو میں سب ثبوتوں کو مسترد کر کے تم سے پہلے سے بھی ذیادہ شدت سے محبت کرونگی .. مجھے محبت میں بدلے کی چاہ نہیں کہ تم بھی مجھے اسی طور اتنا ہی چاہو ..مجھے اگر تم بدلے میں دھوکا دو گے تو بھی میں تشکر سے اسے سمیٹ کر تمہارے لیے دعا گو رہونگی .. یہ کرم نوازی پا کر بھی خوش رہونگی .. اور ویسے اتنی کمزور نہیں ہے میری محبت کہ اس میں *ہو سکتا ہے* کی گنجائش باقی رہی ہو .. میں نے اسے ایک بیج کی طرح سینچا ہے .. انتہائی خلوص اور محنت سے .. اپنا آپ لگا کر .. اسے روز و شب نگہداشت سے سیراب کیا ہے .. دھوپ میں جلنے سے بچانے کی پوری کوشش کی ہے.. بارش میں بھی ہتھیلی اسکے اوپر رکھی ہے .. تاکہ یہ کھل اٹھے اور میں اسکے سائے میں پناہ لے کر زندگی کے بچے ہوئے دن سکون سے گزار سکوں..

اسکی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی جب زم زم نے اسے کلائی سے پکڑ کر اپنے نزدیک کھینچ لیا تھا .. اسکے لمس کے نشے میں گرفتار جنت نے آنکھیں جھکا لیں تھیں ..

ایسی ہی ہے میری محبت.. میں تمہیں قید نہیں کرنا چاہتی کہ وفا دو .. تمہیں دھوکا دینے کی پوری آزادی ہے .. کیونکہ اب میں تمہیں کبھی نہیں کھو سکتی .. تم مجھے ..

اسکی بات کو اس بار کاٹ دیا گیا تھا .. لفظوں سے نہیں .. وارفتگی سے .. والہانیت سے.. وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا تھا اور وہ ہمیشہ پگھل جاتی تھی.

No comments:

Post a Comment

')