Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Monday, October 7, 2019

When I think how to be happy



When I think how to be happy,I get more sad




Standing on terrace;



Standing on terrace;
A Gail is blowing;
Lightening is flashing,
The clouds are silent though,
My mind is freezing
Having sadness immensely;I can't cope with the thoughts!!



I feel that I'm pouring the peace



I feel that I'm pouring the peace of Nature in my own inner being..
So calm,so silent,so serendipitous winter is..
Ahh
!more than feeling I feel!




When I read some poetry;



When I read some poetry;
It indicates
That I'm poetic soul
In me it's innate..




کسی پر نظم لکھنے سے کوئ مل تو نہیں جاتا




کسی پر نظم لکھنے سے کوئ مل تو نہیں جاتا





رشتوں کا ایک روپ مطلب پرستی بھی ہے۔۔۔




رشتوں کا ایک روپ مطلب پرستی بھی ہے۔۔۔
کٹھ پتلی کی طرح جی حضوری کرتے رہو۔۔۔
تو سب ٹھیک ۔۔۔۔۔ورنہ۔۔۔۔
رشتہ کچے دھاگے کی مانند ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔







انسان خود كچھ نهيں ہوتا




انسان خود كچھ نهيں ہوتا .. اس سے جڑ ے لوگ اسے معتبر بناديتے ہيں




جو لوگ آپ سے بغض اور حسد رکھتے ہیں




جو لوگ آپ سے بغض اور حسد رکھتے ہیں ان سے نفرت نہ کریں
کیونکہ یہی اصل لوگ ہیں جو آپ کے چاہنے والے ہیں جنہیں مکمل یقین ہے کہ آپ ان سے بہتر ہیں




یادوں کی گُونج دشتِ محبت میں اب بھی ہے




یادوں کی گُونج دشتِ محبت میں اب بھی ہے
یہ دل گئے دنوں کی رفاقت میں اب بھی ہے
۔
اِک یاد ہے جو نقش__________ ہے لوحِ دماغ پر
اِک زخم ہے جو دل کی حِفاظت میں اب بھی ہے
۔
رُکتے نہیں ہیں آنکھ میں آنسُو کِسی طرح
یہ کاروانِ شوق ، مُسافت میں اب بھی ہے
۔
ترکِ تعلقات کو اِک عمر ہو چکی
دل ہے کہ بے قرار محبت میں اب بھی ہے
۔
سب دوست مصلحت کی دُکانوں پہ بِک گئے
دشمن تو پُرخلوص عداوت میں اب بھی ہے
۔
آثارِ حشر سارے نمُودار ہو چکے
کہتے ہیں لوگ دیر قیامت میں اب بھی ہے
۔
مجبُوریوں نے برف بنا دی اَنا، مگر
شعلہ سا ایک اپنی طبیعت میں اب بھی ہے
۔
جس نے کیا تھا جرم وہ کب کا بَری ہوا
جو بےقصُور ہے، وہ عدالت میں اب بھی ہے
۔
برسوں ہوئے جو زخمِ شناسائی سے ملا
وہ درد میری، اُس کی شراکت میں اب بھی ہے
۔
مل جائے وہ کہیں تو اُسے کہنا اے ہوا
باقی ترا غموں کی حراست میں اب بھی ہے



راستوں کی مرضی ہے



راستوں کی مرضی ہے
بے زمین لوگوں کو
بے قرار آنکھوں کو
بد نصیب قدموں کو
جس طرف بھی لے جائیں
راستوں کی مرضی ہے
بے نشاں جزیروں پر
بد گمان شہروں میں
بے زبان مسافر کو
جس طرف بھی بھٹکائیں
راستوں کی مرضی ہے
روک لیں یا بڑھنے دیں
تھام لیں یا گرنے دیں
وصل کی لکیروں کو
توڑ دیں یا ملنے دیں
راستوں کی مرضی ہے
اجنبی کوئی لا کر
ہمسفر بنا ڈالیں
ساتھ چلنے والوں کی
راکھ بھی اُڑا ڈالیں
یا مسافتیں ساری
خاک میں ملا ڈالیں
راستوں کی مرضی ہے
.....!!




')