" وقت مرہم نہیں ہے "
جو کہتا ہے وقت مرہم ہے وہ جھوٹا ہے ، وہ منافق ہے وہ پاگل ہے
وقت مرہم نہیں ہے نورے
وقت حاکم ہے ، جابر ہے ظالم ہے
، فرعون ہے یزید ہے ، وقت قلت ہے وقت ذلت ہے وقت مرہم نہیں ہے
Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.
Looking for something?
Kahkashan Khan Blog This page is dedicated to all the art, poetry, literature, music, nature, solitude and book lovers. Do what makes your soul happy. Love and Peace. - D
" وقت مرہم نہیں ہے "
جو کہتا ہے وقت مرہم ہے وہ جھوٹا ہے ، وہ منافق ہے وہ پاگل ہے
وقت مرہم نہیں ہے نورے
وقت حاکم ہے ، جابر ہے ظالم ہے
، فرعون ہے یزید ہے ، وقت قلت ہے وقت ذلت ہے وقت مرہم نہیں ہے
وہ میرے ہاتھوں کی دسترس سے
بہت پرے تھا
مَیں جُھک گیا تھا
مگر وہ پھر بھی نشیب میں تھا
اُسے اٹھانے کے واسطے مَیں
اگرچہ اُترا تھا پستیوں میں
مگر وہ میری اَنا کے زینے پہ پاؤں رکھ کے
کُچھ ایسا اُونچا ہوا کہ دیکھو
وہ میرے ہاتھوں کی دسترس میں نہیں رہا ہے
بہت سادہ ہے وہ
اور اُس کی دُنیا
میری دُنیا سے سَراسَر مُختلف ہے
الگ ہیں خواب اُس کے
زندگی میں اُس کی ترجیحات ہی کچھ اور لگتی ہیں
بہت کم بولتا ہے وہ
مجھے
اُس نے لِکھا ہے
"صُبح،
میں نے لان میں کچھ خُوبصورت پُھول دیکھے
مجھے بے ساختہ یاد آ گئیں تم
مجھے معلوم ہے
میں عُمر کے اُس مَلگجے حصّے میں ہوں
جب میرا چہرہ
کِسی بھی پُھول سے قُربت نہیں رکھتا
مگر جی چاہتا ہے
اُس کی باتوں پر
ذرا سی دیر کو ایمان لے آؤں
عجب لڑکی ہے باتوں سے پھول چنتی ہے
خاموشیوں سے نظم بُنتی ہے آنکھوں میں خواب سجاتی ہے دل کو یونہی بہلاتی ہے
اور پھر ٹوٹ جاتی ہے
ایک مرتا ہوا شخص س اپنی موت کے دن کیا کیا سوچ سکتا ہے
وہ سوچ سکتا ہے زندگی تو وہ زندگی نا تھی جو جئی
وہ سوچ سکتا ہے دوائے درد وہ دوا نا تھی جو لی
وہ سوچ سکتا ہے محبت وہ محبت نا تھی جو کی
وہ سوچ سکتا ہے راحت وہ راحت ناتھی جو لی
وہ سوچ سکتا ڈر وہ ڈر نا تھا جو سمجھا
وہ سوچ سکتا ہےشر وہ وہ شر نا تھا جو سینچا
وہ سوچ سکتا ہے مروت وہ مروت نا تھی جو خدا سے رکھی
وہ سوچ سکتا ہے عقیدت وہ عقیدت نا تھی جو اپنی رضا سے کی
وہ سوچ سکتا ہے کہ سوچنا وہ سوچنا نا تھا جو سوچتا رہا
وہ سوچ سکتا ہے کوسنا وہ وہ کوسنانا تھا جو مقدر کو کوستا رہا
وہ سوچ سکتا ہے بعذ از موت حق مل ہی جائے گا
وہ سوچ سکتا ہے تخلیق کا راز کھل ہی جائے گا
وہ سوچ سکتا ہے کار حیات بیکار ہی گئی
وہ سوچ سکتا ہے محنت دوام لاچار ہی گئی
وہ سوچ سکتا ہے موت ہی ہے آخر کو زندگی کا خواب
وہ سوال جو شروع ہوا تھا وقت پیدائش مانند خواب
سوچے وہ کچھ بھی،ڈرے یا ڈولےبس اس بات کو تولے کہ مابعد الموت خود کو دیکھ لے اگر لیے سب سوالوں کے جواب تو ٹوٹ نا جائیں وہ خواب جو سرکشی میں بنتا رہا دوران عرصہ حیات ۔
کیا ایسا ہوسکتا ہے
کسی شخص کو کبھی دیکھا نہیں کوئی ملاقات نہ کی ہو مگر اس کے لفظ پڑھ کر اسکی ذات سے عشق ہو جائے؟
....!-"
نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے
نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے
نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے
مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں
مرے ہم راہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی
تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں
تعارف روگ ہو جائے تو اس کا بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا