Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Wednesday, July 14, 2021

" وقت مرہم نہیں ہے "


" وقت مرہم نہیں ہے "


جو کہتا ہے وقت مرہم  ہے وہ جھوٹا ہے ، وہ منافق ہے وہ پاگل ہے 

وقت  مرہم نہیں ہے نورے 

وقت حاکم ہے ، جابر  ہے ظالم  ہے 

 ، فرعون ہے یزید ہے ، وقت  قلت ہے وقت ذلت ہے وقت مرہم نہیں ہے





"دسترس "


وہ میرے ہاتھوں کی دسترس سے

بہت پرے تھا

مَیں جُھک گیا تھا

مگر وہ پھر بھی نشیب میں تھا

اُسے اٹھانے کے واسطے مَیں

اگرچہ اُترا تھا پستیوں میں

مگر وہ میری اَنا کے زینے پہ پاؤں رکھ کے

کُچھ ایسا اُونچا ہوا کہ دیکھو

وہ میرے ہاتھوں کی دسترس میں نہیں رہا ہے 



ایک آدھ خواب میرا بھی پورا کر دے اے مالک



 ایک آدھ خواب میرا بھی پورا کر دے اے مالک

ہوجاۓ یہ یقیں مجھے، تو خفا نہیں مجھ سے


Tuesday, July 13, 2021

بہت سادہ ہے وہ اور اُس کی دُنیا میری دُنیا سے سَراسَر مُختلف ہے



 بہت سادہ ہے وہ

اور اُس کی دُنیا 

میری دُنیا سے سَراسَر مُختلف ہے

الگ ہیں خواب اُس کے

زندگی میں اُس کی ترجیحات ہی کچھ اور لگتی ہیں


بہت کم بولتا ہے وہ

مجھے

اُس نے لِکھا ہے

"صُبح،

میں نے لان میں کچھ خُوبصورت پُھول دیکھے

مجھے بے ساختہ یاد آ گئیں تم


مجھے معلوم ہے

میں عُمر کے اُس مَلگجے حصّے میں ہوں

جب میرا چہرہ

کِسی بھی پُھول سے قُربت نہیں رکھتا

مگر جی چاہتا ہے

اُس کی باتوں پر

ذرا سی دیر کو ایمان لے آؤں



Sunday, July 11, 2021

عجب لڑکی ہے باتوں سے پھول چنتی ہے


عجب لڑکی ہے باتوں سے پھول چنتی ہے  

خاموشیوں سے نظم بُنتی ہے آنکھوں میں خواب سجاتی ہے دل کو یونہی بہلاتی ہے 

اور پھر ٹوٹ جاتی ہے 


Saturday, July 3, 2021

ایک مرتا ہوا شخص س اپنی موت کے دن کیا کیا سوچ سکتا ہے



 ایک مرتا ہوا شخص س اپنی موت کے دن  کیا کیا سوچ سکتا ہے


وہ سوچ سکتا ہے زندگی تو وہ زندگی نا تھی جو جئی 

وہ سوچ سکتا ہے دوائے درد وہ دوا نا تھی جو لی

وہ سوچ سکتا ہے محبت وہ محبت نا تھی جو کی 

وہ سوچ سکتا ہے راحت وہ راحت ناتھی جو لی 

 وہ سوچ سکتا ڈر وہ ڈر نا تھا جو سمجھا 

وہ سوچ سکتا ہےشر وہ وہ شر نا تھا جو سینچا 

وہ سوچ سکتا ہے مروت وہ مروت نا تھی جو خدا سے رکھی

وہ سوچ سکتا ہے عقیدت وہ عقیدت نا تھی جو اپنی رضا سے کی 

وہ سوچ سکتا ہے کہ سوچنا وہ سوچنا نا تھا جو سوچتا رہا

وہ سوچ سکتا ہے کوسنا وہ وہ کوسنانا تھا جو مقدر کو کوستا رہا

وہ سوچ سکتا ہے بعذ از موت حق مل ہی جائے گا

وہ سوچ سکتا ہے تخلیق کا راز کھل ہی جائے گا

وہ سوچ سکتا ہے کار حیات بیکار ہی گئی 

وہ سوچ سکتا ہے محنت دوام لاچار ہی گئی 

وہ سوچ سکتا ہے موت ہی ہے آخر کو زندگی کا خواب 

وہ سوال جو شروع ہوا تھا وقت پیدائش مانند خواب 


سوچے وہ کچھ بھی،ڈرے یا ڈولےبس اس بات کو تولے کہ مابعد الموت خود کو دیکھ لے اگر لیے  سب سوالوں کے جواب تو ٹوٹ نا جائیں وہ خواب جو سرکشی میں بنتا رہا دوران عرصہ حیات ۔



کسی کے خواب تو ہونگے میرے جیسے


 کسی کے خواب تو ہونگے میرے جیسے 

کوئی تو مجھ سا سوچتا ہو گا 

__❤



ہماری خواہشیں تو دل کے باغیچے میں اُڑتی تِتلیاں ہیں



 ہماری خواہشیں تو

دل کے باغیچے میں اُڑتی تِتلیاں ہیں

کہ جن کے رنگ کَچے اور عُمریں مُختصر ہیں



کیا ایسا ہوسکتا ہے



کیا ایسا ہوسکتا ہے

کسی شخص کو کبھی دیکھا نہیں کوئی ملاقات نہ کی ہو مگر اس کے لفظ پڑھ کر اسکی ذات سے عشق ہو جائے؟

....!-"





Wednesday, June 16, 2021

نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی


 نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی 

نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے 


نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے 

نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے 


تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے 

مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں 


مرے ہم راہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی 

تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں 


تعارف روگ ہو جائے تو اس کا بھولنا بہتر 

تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا 


وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن 

اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا 



')