محبت میں کیے جانے والے تمام دعوے اور وضاحتیں وقتی ہوتی ہے جنہیں سوچ سوچ کر انسان اپنی باقی زندگی بھی جہنم بنا لیتا ہے
Kahkashan Khan Blog This page is dedicated to all the art, poetry, literature, music, nature, solitude and book lovers. Do what makes your soul happy. Love and Peace. - D
Saturday, July 17, 2021
Wednesday, July 14, 2021
" وقت مرہم نہیں ہے "
" وقت مرہم نہیں ہے "
جو کہتا ہے وقت مرہم ہے وہ جھوٹا ہے ، وہ منافق ہے وہ پاگل ہے
وقت مرہم نہیں ہے نورے
وقت حاکم ہے ، جابر ہے ظالم ہے
، فرعون ہے یزید ہے ، وقت قلت ہے وقت ذلت ہے وقت مرہم نہیں ہے
"دسترس "
وہ میرے ہاتھوں کی دسترس سے
بہت پرے تھا
مَیں جُھک گیا تھا
مگر وہ پھر بھی نشیب میں تھا
اُسے اٹھانے کے واسطے مَیں
اگرچہ اُترا تھا پستیوں میں
مگر وہ میری اَنا کے زینے پہ پاؤں رکھ کے
کُچھ ایسا اُونچا ہوا کہ دیکھو
وہ میرے ہاتھوں کی دسترس میں نہیں رہا ہے
Tuesday, July 13, 2021
بہت سادہ ہے وہ اور اُس کی دُنیا میری دُنیا سے سَراسَر مُختلف ہے
بہت سادہ ہے وہ
اور اُس کی دُنیا
میری دُنیا سے سَراسَر مُختلف ہے
الگ ہیں خواب اُس کے
زندگی میں اُس کی ترجیحات ہی کچھ اور لگتی ہیں
بہت کم بولتا ہے وہ
مجھے
اُس نے لِکھا ہے
"صُبح،
میں نے لان میں کچھ خُوبصورت پُھول دیکھے
مجھے بے ساختہ یاد آ گئیں تم
مجھے معلوم ہے
میں عُمر کے اُس مَلگجے حصّے میں ہوں
جب میرا چہرہ
کِسی بھی پُھول سے قُربت نہیں رکھتا
مگر جی چاہتا ہے
اُس کی باتوں پر
ذرا سی دیر کو ایمان لے آؤں
Sunday, July 11, 2021
عجب لڑکی ہے باتوں سے پھول چنتی ہے
عجب لڑکی ہے باتوں سے پھول چنتی ہے
خاموشیوں سے نظم بُنتی ہے آنکھوں میں خواب سجاتی ہے دل کو یونہی بہلاتی ہے
اور پھر ٹوٹ جاتی ہے
Saturday, July 3, 2021
ایک مرتا ہوا شخص س اپنی موت کے دن کیا کیا سوچ سکتا ہے
ایک مرتا ہوا شخص س اپنی موت کے دن کیا کیا سوچ سکتا ہے
وہ سوچ سکتا ہے زندگی تو وہ زندگی نا تھی جو جئی
وہ سوچ سکتا ہے دوائے درد وہ دوا نا تھی جو لی
وہ سوچ سکتا ہے محبت وہ محبت نا تھی جو کی
وہ سوچ سکتا ہے راحت وہ راحت ناتھی جو لی
وہ سوچ سکتا ڈر وہ ڈر نا تھا جو سمجھا
وہ سوچ سکتا ہےشر وہ وہ شر نا تھا جو سینچا
وہ سوچ سکتا ہے مروت وہ مروت نا تھی جو خدا سے رکھی
وہ سوچ سکتا ہے عقیدت وہ عقیدت نا تھی جو اپنی رضا سے کی
وہ سوچ سکتا ہے کہ سوچنا وہ سوچنا نا تھا جو سوچتا رہا
وہ سوچ سکتا ہے کوسنا وہ وہ کوسنانا تھا جو مقدر کو کوستا رہا
وہ سوچ سکتا ہے بعذ از موت حق مل ہی جائے گا
وہ سوچ سکتا ہے تخلیق کا راز کھل ہی جائے گا
وہ سوچ سکتا ہے کار حیات بیکار ہی گئی
وہ سوچ سکتا ہے محنت دوام لاچار ہی گئی
وہ سوچ سکتا ہے موت ہی ہے آخر کو زندگی کا خواب
وہ سوال جو شروع ہوا تھا وقت پیدائش مانند خواب
سوچے وہ کچھ بھی،ڈرے یا ڈولےبس اس بات کو تولے کہ مابعد الموت خود کو دیکھ لے اگر لیے سب سوالوں کے جواب تو ٹوٹ نا جائیں وہ خواب جو سرکشی میں بنتا رہا دوران عرصہ حیات ۔
کیا ایسا ہوسکتا ہے
کیا ایسا ہوسکتا ہے
کسی شخص کو کبھی دیکھا نہیں کوئی ملاقات نہ کی ہو مگر اس کے لفظ پڑھ کر اسکی ذات سے عشق ہو جائے؟
....!-"