Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Monday, April 13, 2015

بہت سی کتابیں


بہت سی کتابیں
بہت سی سی ڈیز اور کیسٹس
بہت سی بے تُکی اپائنمنٹ
دوستوں سے فون پر لمبی باتیں
یا پھر اُلجھی راہوں پر چلتے
یوں ہی وقت بیتانا
بے سمت راستوں پر بے وجہ خاک اُڑانا
یا پھر نیٹ کے اُلجھاؤں میں
بے طرح خود کو اُلجھانا
!!.......بے بات ہنسنے کے بہانے
بہت خوش ہوں
دُنیا کو دکھانے کو
کتنے بہانے ڈھونڈتا ہے دل
!......فقط اُسے بھلانے کو

 

Saturday, April 11, 2015

پرندے لوٹ آتے ہیں مگر یہ آدمی عابیؔ


پرندے لوٹ آتے ہیں مگر یہ آدمی عابیؔ
زرا سے پر نکلتے ہی ٹھکانے چھوڑ دیتے ہیں



.

ﺁﺝ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻟﮑﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ


ﺁﺝ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻟﮑﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ 
ﺁﺝ ﮐﭽﮫ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﺳﺎ ﮬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ



.

شعر کہنا مری ضرورت ہے


شعر کہنا مری ضرورت ہے
اس بہانے میں سانس لیتا ہوں
.


Friday, April 10, 2015

کیونکہ میںاللہ تعالیٰ کو ایسے اچھی لگتی ہوں"




تم نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا تھا حیا ! کہ میں ہر وقت اسکارف کیوں پہنتی ہوں؟"

عائشہ سر جھکائے لکڑی کے ٹکڑے کا کنارہ تراشتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ "میں تمہیں بتاؤں ‘ میرا بھی دل کرتا ہے کے میں وہ خوبصورت لباس پہنوں جو بیوک ادا میں استنبول یا اٹلی اور اسپین کی لڑکیاں پہن کر آتی ہیں۔ بلکل جیسے ماڈلز پہنتی ہیں اور جب وہ اونچی ہیل کے ساتھ ریمپ پہ چلتی آ رہی ہوتی ہیں تو ایک دنیا ان کو محسور ہو کر دیکھ رہی ہوتی ہے۔میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں بھی ایسے اسمارٹ اور ٹرینڈی ڈیزائنر لباس پہن کر جب سڑک پہ چلوں تو لوگ محسور و متاثر ہو کر مجھے دیکھیں۔۔۔ ۔۔ لیکن--- وہ سانس لینے کو رکی، حیا بنا پلک جھپکے ، سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔
"لیکن... پھر مجھے خیال آتا ہے۔ یہ خیال کہ ایک دن میں مر جاؤں گی، جیسےتمہاری دوست مر گئی تھی اور میں اس مٹی میں چلی جاؤں گی، جس کے اوپر میں چلتی ہوں۔ پھر ایک دن سورج مغرب سے نکلے گا اور زمین کا جانور زمین سے نکل کر لوگوں سے باتیں کریگا اور لال آندھی ہر سو چلے گی- اس دن مجھے بھی سب کے ساتھ اٹھایا جائیگا۔ تم نے کبھی اسٹیڈیمز دیکھے ہیں جن میں بڑی بڑی اسکرینز نصب ہوتی ہیں؟ میں خود کو ایسےہی اسٹیڈیم میں دیکھتی ہوں۔ میدان کے عین وسط میں کھڑے۔
اسکرین پہ میرا چہرا ہوتا ہے اور پورا میدان لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔ سب مجھے ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں اور میں اکیلی وہاں کھڑی ہوتی ہوں۔
میں سوچتی ہوں حیا، اگر اس وقت میرے رب نے مجھ سے پوچھ لیا کہ انا طولیہ کی عائشہ گل، اب بتاؤ تم نے کیا‘ کیا؟ یہ بال‘ یہ چہرا‘ یہ جسم‘ یہ سب تو میں نے تمہیں دیا تھا یہ نہ تم نے مجھ سے مانگ کر حاصل کیا تھا اور نہ ہی اس کی قیمت ادا کی تھی۔ یہ تو میری امانت تھی۔ پھر تم نے اسے میری مرضی کے مطابق استعمال کیوں نہیںکیا؟
تم نے اس وہ کام کیوں کئے جن کو میں نا پسند کرتا ہوں؟ تم نے ان عورتوں کا رستہ کیوں چن لیا جن سے میں ناراض تھا؟
میں نے ان سوالوں کے بہت جواب سوچے ہیں، مگر مجھے کوئی جواب مطمئن نہیں کرتا۔ روزصبح اسکارف لینے سے پہلے
میری آنکھوں کے سامنے ان تمام حسین عورتوں کے دلکش سراپے گردش کرتے ہیں جو ٹی وی پہ میں نے کبھی دیکھی ہوتی ہیں اور میرا دل کرتا ہے کہ میں بھی ان کا راستہ چن لوں، مگر پھر مجھے وہ آخری عدالت یاد آ جاتی ہے، تب میں سوچتی ہوں کہ اس دن میں الله کو کیا جواب دوں گی؟
میں ترازو کے ایک پلڑے میں اپنا وہ سراپا ڈالتی ہوں جس میں، میں خود کو اچھی لگتی ہوں اور دوسرے میں وہ جس میں
میں اللہ تعالیٰ کو اچھی لگتی ہوں
میری پسند کا پلڑا کبھی نہیں جھکتا،اللہ تعالیٰ کی پسند کا پلڑا کبھی نہیںاٹھتا،
تم نے پوچھا تھا میں اسکارف کیوں لیتی ہوں؟سو میں یہ اس لئے کرتی ہوں کیونکہ میںاللہ تعالیٰ کو ایسے اچھی لگتی ہوں






!.....تَعلق رکھ لِیا باقی، یقیں اب توڑ آیا ہوں


!.....تَعلق رکھ لِیا باقی، یقیں اب توڑ آیا ہوں
کسی کا ساتھ دینا تھا، کسی کو چھوڑ آیا ہوں
۔
!.....تمہارے ساتھ جینے کی قَسم کھانے سے کچھ پہلے،
میں کچھ وعدے، کئی قَسمیں کہیں پر توڑ آیا ہوں۔۔۔۔۔۔!
۔
!.....محبت کانچ کا زنداں، یونہی سنگِ گِراں کب تھی،
جہاں سَر پھوڑ سکتا تھا، وہیں سَر پھوڑ آیا ہوں
۔
!....پلٹ کر آ گیا لیکن یوں لگتا ہے کہ اپنا آپ
جہاں تم مجھ سے بچھڑے تھے وہیں پر چھوڑ آیا ہوں۔
۔
!....اُسے جانے کی جلدی تھی، سو میں آنکھوں ہی آنکھوں میں
جہاں تک چھوڑ سکتا تھا، وہیں تک چھوڑ آیا ہوں


،ﻣﯿﮟ ﻋﺰﺕ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ


،ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﯽ
،ﻣﯿﮟ ﻋﺰﺕ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
،ﺗﻢ ﺑﮯ ﺷﮏ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﺁﺅ
،ﻣﮕﺮ ﻋﺰﺕ ﺳﮯ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﮐﺮﻭ
<ﻋﺰﺕ ﮐﺮﻭﮔﮯ ﺗﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﺧﻮﺩ ﮨﻮ ﺟﺎﮰ ﮔﯽ
،ﻣﺤﺒﺖ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﻠﺒﻠﮧ 
ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﻧﺎﭘﯿﺪ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
!ﺑﺲ ﺭﺳﻢ ﺍﻭﺭ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺭﻩ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ 
،ﻣﺤﺒﺖ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ
!!ﻋﺰﺕ "ﺍﻧﻤﻮﻝ " ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ 
... ☆☆ ...


Thursday, April 9, 2015

میری ساری دُعائیں






مُجھے یقیین ہے
میری ساری دُعائیں 
جو میرے دِل کے نہاں خانوں سے 
باہر کبھی نِکلی ہی نہیں 
وہ دُعائیں جنہیں میں 
خود سے بھی چھپ کہ مانگتی ہوں 
وہ دُعائیں بھی 
اُس تک 
جاتی تو ہیں 
تبھی تو کِسی روز اچانک 
قبولیت کی دستار پہن کر 
حقیقت میں ڈھل جاتی ہیں
ایسی ہی ایک دُعا 
میں نے خود سے چُھپ کر مانگی ہے 
گھنٹوں خود پہ نظر رکھی 
تب خود کی آنکھ سے اوجھل ہو کر 
یہ جسارت کر پائی ہوں ۔۔ 
بس تم میرے ساتھ رہو
اور 
جب تم گھر سے باہر جاؤ 
فرشتے تمھاری ڈھال بنیں 
ہر اُس آنکھ سے تم کو بچائیں 
جو ہم دونوں کو دُور کرے ۔۔ آمین 



اٹک کے رہ گیا پلکوں پہ خواب ایسا تھا


اٹک کے رہ گیا پلکوں پہ خواب ایسا تھا
ھزار طرح سے خود کو جگا کے دیکھ لیا



کبھی یہ آرزُو کہ


کبھی یہ آرزُو کہ
وہ...
جو مانگے مِل جائے اُسے ،
کبھی یہ وَسوسَے
کہ..
اُس نے میرے سِوا کُچھ مانگا تو نہیں ؟؟





')