Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Tuesday, February 9, 2016

Kar liyea mefooz khud ko raaoga'an hotey huey


Kar liyea mefooz khud ko raaiga'an hotey huey

Mainey jab dekha kisi ko bad gumaan hotey Huey. !

محبت






محبت اور ضرورت
ضرورت سے محبت
یا پھر
محبت کی ضرورت
محبت اور ضرورت دو مختلف چیزیں ہیں۔ یہاں اللہ کی 
ضرورت سب کو ہے۔ سب اذیت میں، اذیت سے بچنے کے لیۓ بےساختہ اللہ اللہ کر اٹھتے ہیں۔ مگر اللہ سے محبت کچھ اور ہی چیز ہے۔ کچھ بہت ماورا، شاید بیان سے باہر!
اس محبت میں تو، دنیا کی نظر میں انسان اذیت میں بھی ہو تو اسے وہ اذیت نہیں لگتی۔ بلکہ محبت والے اس میں بھی صبر و شکر و حمد کے بہانے تلاش لیتے ہیں۔ وہاں صبر کرنے کے لیۓ حکمت سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ وہاں محبت 
میں تسلیم ورضا ہی جامِ محبت ہوتا ہے!



ایک اور صبح





بلآخر ایک اور صبح بیدار ہوئی۔ یا آنکھیں پھر سے وقت کے 


فریب کی زَدّ میں آگئیں؟ کہ وہی گزشتہ صبح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی صبح اور نئے دن کے نام سے نمودار ہوئی چاہتی ہے؟ زمان و مکان اور وقت کا تخلیق کردہ رب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ جس نے وقت کو عجب فراوانی بخشی ہے کہ بے لگام گھوڑے کی مانند ہاتھ میں آئے بغیر سرپٹ دوڑتا چلا جا رہا ہے۔ یا کہ پھر ایسا سحر بخشا ہے کہ چُٹکی بجا کر سکّے کے دو پہلوؤں کی طرح دن اور رات کی صورت میں اُن کے رُخ بدلتا رہتا ہے۔


کتنا عجیب ہے یہ سب؟ ایک صبح کل ہوئی تھی، ایک آج ہوئی ہے، اور ایک نے کل امرِ ربی سے ہونا ہے۔ ہر صبح کے ساتھ جڑی انسانی کیفیات میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ سورج اور چاند اپنے اپنے مدار میں اپنا چکر مکمل کرتے رہتے ہیں۔ مگر اِس صبح میں کوئی تغیّر نظر نہیں آتا۔ ہے ناں سحر، جادو، آنکھوں کا فریب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سوچ رہی ہوں کہ جب کائینات بنی تھی، معلوم نہیں کہ شروعات دن سے ہوئی تھی یا کہ رات سے، مگر اُس پہلے دِن کی صبح ضرور ہوئی ہوگی۔ اور اِسی طرح یہ بھی معلوم نہیں کہ کب اِس دنیا کا کاروبار اپنے انجام کو پہنچے گا، اور تب رات ہو گی یا دن؟ مگر یہ بھی طے ہے کہ اُس دن کی صبح بھی ضرور ہو گی۔


شاید ہمارے نزدیک دن اور رات کی پہچان صرف اندھیرے اور اُجالے تک ہی محدود ہے۔ مگر چاندنی راتیں تو اندھیری نہیں ہوتیں، اور نہ سورج گرہن کے وقت دن روشن ہوتا ہے۔ تو پھر دن اور رات کی پہچان کیا ہے؟ یہ روز نئی صبح کیوں نمودار ہو جاتی ہے؟ کیوں اُس رات کا قصّہ اُسی رات تک محدود رہ جاتا ہے؟ کوئی اگر اپنی کیفیت سے نکل کر نئی صبح چاہتا ہے تو کیوں اُس وقت رات ہو چکی ہوتی ہے؟ اور کوئی اگر صبح سے بیزار رات کا طلبگار ہے تو کیوں اُس کے متھے نئی صبح مار دی جاتی ہے؟ کیا اس کائینات میں رُونما تمام محرک عوامل نے صرف انسان پر ہی اثر انداز ہونا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہماری طبیعت کے مخالف کیوں؟ موافق کیوں نہیں؟


کہنے کو تو صبح ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اندھیرا اب بھی باقی ہے۔




دُعا



دُعا مانگتے وقت جن کے نام خود بخود دل میں آ جائیں، ان کا
ہماری دُعاؤں پہ زیادہ حق ہوتا ہے۔ شاید ایسا اس لیئے ہے کہ وہ بھی ہمیں کہیں نہ کہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ 

ہماری زندگی میں کُچھ لوگوں کا کردار، محض تپتی ہوئی زمین پہ برستی بارش کی اُن چند بوندوں کی طرح ہوتا ہے۔ کہ جن کے برسنے سے پہلے بھی گُھٹن، بعد میں بھی گُھٹن۔

موت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بولتے ہوؤں کے منہ پہ ہاتھ رکھ کے چُپ کروا دیتی ہے، لیکن پھر بھی کچھ لوگ بول پڑتے ہیں۔ اور میں نہیں چاہتی کہ میں بولوں، میں چاہتی ہوں کہ میں بھی چُپ کر 
جاؤں۔


بوجھ


مُجھ سے ایک بار کسی نے پُوچھا تھا کہ کہکشاں آپ کے 
نزدیک زندگی کا سب سے بڑا بوجھ کیا ہے؟"
میں نے کہا تھا کہ صورتحال پہ منحصر ہے۔ ہر انسان کے حالات مختلف ہوتے ہیں، تو کسی کے لیئے تنہائی بوجھ، کسی کو غربت بوجھ لگتی ہے، کسی کے لیئے مال و دولت، کسی کو ذمہ داریاں اور فرائض اور کسی کی نظر میں رشتے سب سے بڑے بوجھ ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا "نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری زندگی کا سب سے بڑا بوجھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ تنہائی، مال و دولت، غربت، فرائض و ذمہ داریاں اور نہ ہی رشتے۔"
"ہماری زندگی کا سب سے بڑا بوجھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "گناہ" کا بوجھ ہوتا ہے۔ اور پتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب جانتے ہوئے بھی زینہ در زینہ ہم اوپر چڑھتے جاتے ہیں۔ یار یہ گناہ کا بوجھ سب 
سے بڑا بوجھ ہوتا ہے 


موم بتیاں




سوچ رہی تھی کہ آخر خود کو کتنا فریب دینے کی کوشش کروں گی ؟ کچھ دیر کے لیئے دوسرے تو میرے فریب کی زد میں آ سکتے ہیں، مگر میں خود نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میرے رُوبرو کوئی دوسرا نہیں، میں خود ہوں۔

میں نے اپنے اندر کی تاریکی کو ختم کرنے کی خاطر اپنے ارد گرد بے شُمار موم بتیوں کا سہارا لے رکھا ہے۔ ایک بُجھنے لگتی ہے تو دوسری جلا لیتی ہوں۔ مگر کبھی یہ جسارت تک نہیں کی کہ تھوڑا سا اور آگے بڑھ کراُس ایک بلب کو ہی روشن کر لوں جو سدا کے لیئے میرے وجود کو اُجالوں سے روشناس کر دے۔ مگر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!

شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ڈرتی ہوں، اگر وہ بلب روشن ہو گیا تو مجھے 

ساری موم بتیاں بُجھانی پڑیں گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



Thursday, February 4, 2016

Muddaton Baad ushi shaks se


Muddaton baad ushi shaks se milne k liyea
*
*
*
Aiina dekha gaya ... Baal sanware gaye hain


 

Waqt phir aisa bhi aya k


Waqt phir aisa bhi aya k
usey mioltey huey

koi aansoo na giraa ___ koi tamasha na hua !


 

Wednesday, February 3, 2016

میں ایک بلاگر ہوں۔






میں ایک بلاگرہوں۔ ایک عدد بلاگ بنا کر اردو بلاگنگ نامی سڑک کے کنارے


عرصہ دس برس سے پڑی ہوئی ایک ایسی پتھر ہوں جس پر دھوپ، بارش، گرمی، سردی نے کچھ نشانات چھوڑ دئیے ہیں، کہیں کچھ کائی سی جمی ہے، کچھ خراشیں آ چکی ہیں، کچھ کنارے جھڑ چُکے ہیں اور کچھ رنگ اُڑ چکا ہے۔ یعنی بحیثیتِ مجموعی ایک "قدیم" حجر شمار ہو سکتی ہوں۔ اس "قدامت" پر اکثر اوقات مجھے ایک کمینہ سا فخر رہا کرتا ہے۔

میں اردو بلاگنگ نامی سڑک کی ایک ایسی سنگِ میل ہوں جو ایک ویرانے میں نصب ہے۔ جب یہ سڑک میرے پاس سے گزرتی ہے تو صرف ویرانہ اور بنجر بیابان زمین نظر آتی ہے۔ گو کہ یہ سڑک بڑے زرخیز خِطوں اور علاقوں سے گزرتی ہے، اس کی راہ میں بڑے نابغۂ روزگار لکھاریوں کے گھر آتے ہیں اور پھر اب تو اردو بلاگنگ نامی یہ سڑک ڈان اردو، جنگ بلاگز، ہم سب اور لالٹین جیسے کئی بڑے بڑے شہروں تک بھی جاتی ہے۔ لیکن میں ایک تنہائی پسند پتھر ہوں جسے اس سڑک کا ایک گمنام سا سنگِ میل رہنا منظور ہے۔

میں بلاگر ہونے کے ناطے ایک لکھاری بھی ہوں۔ لیکن میری مثال راج مستری کے مقابلے میں ایک ایسے مزدور کی سی ہے جو اینٹیں ڈھونے کے ساتھ ساتھ فرش ہموار کر کے اس پر سیمنٹ ڈال کر ذرا پکا صحن بنانے کا کام بھی جاننے لگ جاتا ہے۔ اور اسی جاننے میں خود کو راج مستری سمجھنے لگتا ہے۔ میں بھی ایسی ہی ایک نیم پکی ہوئی لکھاری ہوں جس کا مطالعہ کم ہوتے ہوتے صفر تک آن پہنچا ہے۔ جس کے پاس مشاہدہ نہ ہونے کے برابر ہے چنانچہ وہ جب لکھتی ہے تو راج مستری نما مزدور کی طرح ایک اونچا نیچا فرش بنا دیتی ہے۔ دیوار کھڑی کرتی ہے تو ٹیڑھی ہوتی ہے، چھت ڈالتی ہے تو پہلی برسات میں ہی رِسنے لگتی ہے۔ میں ایک ایسی لکھاری ہوں جو کنویں میں رہنے والے مینڈک کی طرح صرف ایک اور شخصیت سے واقف ہوتی ہے : اس کا اپنا عکس۔ چنانچہ جب کنویں کا مینڈک کچھ ارشاد کرتا ہے تو وہ اس کی اپنی شان میں ہی فرمائی گئی کوئی بات ہوتی ہے۔ میری تنگ دستی، کم فہمی اور کوتاہ نظری کسی بھی بیرونی معاملے پر میری تحریر کے امکانات صفر کر دیتی ہے نتیجتاً میں خود پر، اپنے بارے میں، اپنے سے متعلق اشیاء کے بارے میں لکھتی ہوں جس کا پڑھنے والے سے شاذ ہی کوئی تعلق نکلتا ہے۔


اپنے اس بے ترتیب، بے ڈھنگے سفر میں مُجھ سے نادانستگی میں کچھ ایسی بلاگ پوسٹیں سرزد ہو چکی ہیں جنہیں وسیع و عریض صحرا میں پانی کے سراب سے تشبیہ دینا زیادہ مناسب رہے گا۔ کہ کبھی کبھی میرے قارئین کو لگتا ہے کہ میں ایک ہنرمند مستری قسم کا لکھاری ہو چکی ہوں۔ لیکن یہ کیفیت برسوں میں ہی کبھی وارد ہوتی ہے۔ اپنی اس مختصر سی بلاگ زندگی میں چلتے چلتے بائی داو ے قسم کے دو چار ایسے کام مجھ سے سرزد ہو چکے ہیں جن پر بلاشبہ مذکورہ بالا کمینہ سا فخر میں اپنا حق خیال کرتی ہوں۔ ان میں کسی زمانے میں ورڈپریس کے ترجمے کی کوشش، لینکس آپریٹنگ سسٹم کی تنصیب کے اسباق، اردو بلاگنگ کے حوالے سے کچھ پوسٹس، کچھ اردو نیوز ویب سائٹس کا ڈیٹا اکٹھا کر کے ایک ٹیکسٹ آرکائیو بنانا، اور حالیہ برسوں میں اپنے ترجمے کے کام کو آسان بنانے کے لیے ادھر اُدھر سے ڈیٹا اکٹھا کر کے دو تین آفلائن اردو لغت ڈیٹا بیسز کی تخلیق جیسی چیزیں شامل ہیں۔


تنہائی کا دائمی مریض ہونے کی وجہ سے اپنے بِل سے نکلنا مجھے کم ہی پسند ہے ۔ لیکن کبھی کبھی تجربے کی خاطر میں سوشل گیدرنگ میں بھی چلی جاتی ہوں۔ چنانچہ چند ایک اردو بلاگرز جو مجھ سے بالمشافہ ملاقات کا شرف رکھتے ہیں وہ تصدیق کریں گے کہ ان الفاظ کو لکھنے والی ٹنڈمنڈ شخصیت کو دیکھ ان شاخوں پر کبھی بہار نہ اترنے کا گمان یقین میں بدل جاتا ہے۔


چنانچہ اے میرے قارئین (اگر کوئی ہے تو) میری بلاگنگ پاکستان میں موسمِ گرما میں بجلی کی فراہمی جیسی ہے جو اکثر غائب رہتی ہے لیکن کبھی کبھار آ بھی جاتی ہے۔ بلاگنگ کے نام پر ایک داغ ہونے کی حیثیت سے میں شرمندہ شرمندہ کسی کو اپنے بلاگ پر کھینچنے کے لیے جگہ جگہ اپنی بلاگ پوسٹس کے ربط نہیں دیتی ، کسی بڑی ویب سائٹ کو اپنی تحریر نہیں بھیجتی (اگر ایسا کبھی ہوا بھی تو ناقابلِ اشاعت کا پیغام بھی موصول نہیں ہوتا)، اپنے بلاگ پر سینکڑوں پیج ویوز کی شماریات کا اعلان نہیں کرتی (چونکہ سینکڑوں پیج ویوز ہوتے ہی نہیں) اور اپنے بلاگ پر لکھے کو دو چار ماہ بعد خود ہی پڑھ کر خوش ہو لیتی ہوں۔ 


تو جناب آج آپ نے جانا کہ میں کیسی (یعنی کس قسم کی ) اور کیسے (یعنی کس طرح سے) بلاگر ہوں۔ تو آپ اگر مانیں یا نہ '
مانیں میں ایک بلاگر ہوں، اور بلاگنگ کے گلے میں اٹکا ایک ایسا کانٹا ہوں جو 
نہ نِگلا جا سکتا ہے اور نہ اُگلا جا سکتا ہے



Tuesday, February 2, 2016

وہ میری خاموشی نہیں سنتا


وہ میری  خاموشی نہیں سنتا 
اور
 میں مجھ سے آواز نہیں دی جاتی

 
')