Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Thursday, January 21, 2021

گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دن


گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دن


ایسا لگا بسر ہوئے جنت میں چار دن


عمر خضر کی اس کو تمنا کبھی نہ ہو


انسان جی سکے جو محبت میں چار دن

جب تک جیے نبھائیں گے ہم ان سے دوستی


اپنے رہے جو دوست مصیبت میں چار دن

اے جان آرزو وہ قیامت سے کم نہ تھے


کاٹے ترے بغیر جو غربت میں چار دن

پھر عمر بھر کبھی نہ سکوں پا سکا یہ دل


کٹنے تھے جو بھی کٹ گئے راحت میں چار دن

جو فقر میں سرور ہے شاہی میں وہ کہاں


ہم بھی رہے ہیں نشۂ دولت میں چار دن

اس آگ نے جلا کے یہ دل راکھ کر دیا


اٹھتے تھے جوشؔ شعلے جو وحشت میں چار دن


گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دن 


Wednesday, January 20, 2021

میں چاہے چار لوگوں کے اکٹھ میں بیٹھوں

میں چاہے چار لوگوں کے اکٹھ میں بیٹھوں 
یا چار سو کی بھیڑ میں گم رہوں ۔۔
میرے خیالات کی سوٸیاں 
تمھاری سوچ کے ہندسوں پر ہی اٹکی  رہتی ہیں
یوں جیسے وقت کٹ بھی رہا ہو 
اور کاٹا بھی نہ جاسکے ___ 🤎
 ⁦♡

کبھی فرصت میں بیٹھ کر اپنے خسارے گنے۔۔؟؟

کبھی فرصت میں بیٹھ کر اپنے خسارے گنے۔۔؟؟
"نہیں۔۔۔تم۔۔۔خسارے مت گنو۔۔انہیں بھول جایا کرو۔۔!"
"کیوں۔۔۔!؟؟؟
"خسارے انسان کو ناشکرا بنا دیتے ہیں۔۔اور ناشکری ہمیشہ ڈپریشن دے کر سکون لے جاتی ہے۔۔تمہیں اب Blessings کاؤنٹ کرنے کی عادت ڈال لینی چاہیے۔ 
کیونکہ اب یہی بہتر ہے تمہارے لیے!!! 

🧡

زندگی کی ایک اور نئی صبح مبارک🌹


 اے رات اور دن کے خالق !!!
آسمان کی وسعتوں میں اڑنے والے پرندوں 
کو سنبهالنے والے رب ....
 اے بادلوں سے پانی برسانے والے مالک .....
 اے سورج کو روشن بنانے والے 
 اے آسمان کو چاند تاروں سے سجانے والے 
 اے زمین پر دیوقامت پہاڑ اور پہاڑوں سے 
چشمے نکالنے والے 
 اے رحیم و کریم پروردگار 
 ہمیں اپنی پناہ میں لے لے 
 ہمیں آخرت کی سختیوں سے محفوظ رکھ 
 ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے بهر دے 
 اے میرے اللہ ہم سب کی خطائیں معاف کر دے۔ 
 آمین ثمہ آمین!!


اســــلام‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬علیــڪم‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬و‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬رحــمتہ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬اللّٰـــہ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬و‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬بـراکـاتــہ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬

‬‬

⁦‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﻳــہ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺟﻨـــﺖ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﻧﮩﻴـــﮟ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺩُﻧﻴـــﺎ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﮨـــﮯ۔۔۔۔‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬
ﻳﮩـــﺎﮞ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﻣَﻨﻔـــﻰ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺭﻭﻳــّﮯ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺁﺋﻴـــﮟ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﮔــﮯ۔۔۔۔۔‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﻣَﻨﻔـــﻰ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺑـــﻮﻝ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬
ﺑـــﻮﻟــﮯ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺟـــﺎﺋﻴــﮟ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﮔــے۔۔۔۔‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺳُــﻦ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ڪــﺮ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺳَﮩـــﮧ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺟــﺎﺅ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺍﻭﺭ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﻣُﺴــڪﺮﺍ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺩﻭ۔۔۔‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬

‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﯾــﺎﺩ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺭڪﮭــﻮ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﯾــﮧ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺭﺍﺋﯿـــﮕﺎﮞ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﻧﮩﯿـﮟ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﺟــﺎﮮ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ﮔـﺎ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬⁦⁩

‬‬وقتـی‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ہـار‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬یـا‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ڪســی‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬غـــم‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬تکلیفـــــ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬میـں‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬اپنــے‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬اللہ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ســے‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ڪبھـــی‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬شڪـوہ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬متــــ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ڪــرنـا‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ڪيــونڪـــہ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬جـو‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬وہ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬جـانتـــا‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ہــے‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬تــم‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬نہیـــں‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬جــانتــــے۔۔۔‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬
‪‪‪ ‬‬‬‬‬اللّٰـــہ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬پاڪــ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ہـم‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬سـب‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬کـو‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬لوگوں‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬ڪے‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬شـر‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬سـے‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬محفوظ‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬فرمائیں‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬
‪‪‪ ‬‬‬‬‬آمیـــــن‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬الہـــــــی‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬آمیـــــــــن‪‪‪‪‪ ‬‬‬‬‬


نظم....."#بُڑھاپا_خوبصورت_ہے"......

 

کسی کو آپ کے بالوں کی چاندی سے محبت ہو 
کسی کو آپ کی آنکھوں پہ اب بھی پیار آتا ہو 
لبوں پر مسکراہٹ کے گلابی پھول کھل پائیں 
جبیں کی جُھرّیوں میں روشنی سمٹی ہوئی تو
بُڑھاپا خوبصورت ہے۔

شکن آلود ہاتھوں پر دمکتے ریشمی بوسے 
سعادت کا، عقیدت کا، تقدّس کا حوالہ ہوں 
جوانی یاد کرتا دل اداسی کا سمندر ہو  
اداسی ﮐﮯ سمندر میں کوئی ہمراہ تَیرے تو
بُڑھاپا خوبصورت ہے۔

ذرا سا لڑکھڑائیں تو سہارے دوڑ کر آئیں
نئے اخبار لا کر دیں ،پُرانے گیت سُنوائیں
بصارت کی رسائی میں پسندیدہ کتابیں ہوں
مہکتے سبز موسم ہوں، پرندے ہوں،شجر ہوں تو
بُڑھاپا خوب صورت ہے۔ 

پرانی داستانیں شوق سے سنتا رہے کوئی
محبت سے دل و جاں کی تھکن چنتا رہے کوئی 
زرا سی دھوپ میں حدّت بڑھے تو چھاؤں مل جاۓ
 برستے بادلوں میں چھتریاں تن جائیں سر پر تو
بُڑھاپا خوبصورت ہے۔

جنہیں دیکھیں تو آنکھوں میں ستارے جگمگا اُٹھیں
جنہیں چُومیں تو ہونٹوں پر دُعائیں جھلمِلا اُٹھیں
جواں رشتوں کی دولت سے اگر دامن بھرا ہو تو
رفیقِ دل، شریکِ جاں برابر میں کھڑا ہو تو
بُڑھاپا خوبصورت ہے۔


وَجود دُکھ ہے

وَجود دُکھ ہے
وجود کی یہ نمود دُکھ ہے
حیات دُکھ ہے ممات دُکھ ہے
یہ ساری موہوم و بے نِشاں
کائنات دُکھ ہے

جُدائی تو خیر آپ دُکھ ہے
مِلاپ دُکھ ہے
کہ مِلنے والے جدائی کی رات میں
مِلے ہیں یہ رات دُکھ ہے

یہ زِندہ رہنے کا باقی رہنے کا
شوق یہ اِہتمام دُکھ ہے

یہ ہونا دُکھ ہے نہ ہونا دُکھ ہے
ثبات دُکھ ہے دوام دُکھ ہے.


Tuesday, January 19, 2021

آج کا دن عجیب تھا

آج کا دن عجیب تھا 
بظاہر تو بہت مصروف مگر دل و دماغ کہیں خلا میں اٹکا ہوا کہ نہ سکون ملے نہ جان نکلے،
اب سوچتی ہوں کب تلک یوں بھاگتے ہی رہنا ہے ؟
کب تھک کر گرنا ہے اور کب حل نکلنا ہے کیونکہ یہ فرار کی راہیں تو عجیب تکلیف دہ ہیں یار صرف اور صرف بےبسی سے بھری ہوئیں __  اور اس بے بسی کے آنسو پونچھتے انسان کچھ لحظہ کیلئے ہی سہی۔۔۔۔۔۔مر تو جاتا ہے نہ!!!



اسے عشق ہے مجھ سے ؟

اسے عشق ہے مجھ سے ؟ 
چاھت میں مبتلا ہے ؟
رتجگے  مناتا ہے ؟ 
دعاؤں میں مانگتا ہے؟
جوگی بن بیٹھا ہے؟

یہ  معمولی ہے 🖤
قابل فخر کچھ نہیں،
ھر حسین عورت چاھی جاسکتی ہے ،
مگر ھر عورت اس چاھت کے سحر میں مبتلا نہ ھو تو  قابل فخر ہے ♥️
جب سے دنیا وجود میں آئی ہے ، یہ دستور چلا آرہا ہے 
مرد دلکش عورت کے عشق میں پڑ ہی جایا کرتا ہے ،
میں کیوں جلاؤں اپنا خون 🙂♥️
وہ اپنے حصے کا شوق فرض سمجھ کر ادا کرتا رہے ،
میں مسلسل اپنی دنیا میں یونہی مگن رھوں گی۔


Monday, January 18, 2021

"مدار"



کبھی پرکار کو بنا مرکز کے گھومتے دیکھا ہے؟ 
کاغذ پہ دائرہ شروع ہو چکا تھا،  مگر پرکار کی نوک اک نقطے پہ ٹکی تھی.
نامکمن ہے کہ آپ نوک کسی نقطے پہ ٹکائے بغیر دائرہ مکمل کر لیں ؟ 
ہے نا؟  مگر میں کر رہی ہوں.
بنا کسی مرکز کے،  ایک ہی چکر میں گھومتے،  راتیں کٹتی جاتی ہیں لیکن ختم نہیں ہوتیں....!
میں مرکز پہ پہنچنا  نہیں چاہتی اور محور سے ہٹ نہیں سکتی.
اک لاحاصل انتظار ہے جس کا ہونا ہی زندگی کا حاصل ہے.

کاغذ کا ٹکڑا پھٹ چکا تھا مگر نوک کو مرکز سے ہٹنا منظور نہ تھا.
"یہ اذیت ہے،  ختم کر دیجئے "  میرے دل نے ہمیشہ کی طرح کہا.
" یہ محبت ہے مگر شروع ہی نہیں ہوئی "  میں نے کاغذ سمیٹ کے پھینک دیے.
 ہم دونوں ایسی انتہاؤں کے مسافر ہیں، جن کے راستے بہت الگ ہیں. جن کی منزل کبھی ایک نہیں ہو گی..جنہیں ایک دوسرے سے کوئی غرض نہیں ہے.جو بنا کسی وجہ کے بس توجہ چاہتے ہیں.
بناء کسے وجہہ کے بس ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں ہمیشہ مطلب ہمیشہ .
" پر یہ وہم ہے،  نکال پھینکو گی تو مٹ جائے گا " اب کی بار دماغ نے دلیل دی.
 میں نے موبائل اٹھا کے اک نظر اس کی چیٹنگ پہ ڈالی..وہاں کوئی جواب،  کوئی سوال نہ تھا.
میں چیٹنگ پڑھنے لگی .  بے مقصد باتیں،  چند حال احوال ... اور ڈھیر سارے نقطوں پہ مشتمل میسجز کے سوا کچھ نہ تھا.
"  تم ڈاٹس بھیج کے تھکتی نہیں ہو؟  " اس کے پرانے میسج پہ  میں مسکرا اٹھی.میرے مسلسل میسجز کرنے پہ اس نے زچ ہو کے کہا تھا.
میں کیسے بتاتی کہ جب باتیں کہی نہیں جاتیں تو نا معلوم اشاروں میں سمٹ جاتی ہیں.محسوس کی جا سکتی ہیں بیان نہیں کر سکتے.
وہ اب بھی آن لائن تھا. میں بھی آن لائن تھی...مگر مکمل خاموشی سے یہ وقت بھی گزر جائے گا. 
میرا سوال وہی ہے ...!
آپ نے کبھی پرکار کو بنا کسی مرکز کے گھومتے دیکھا ہے؟  
میں روز اس محور میں گھومتی ہوں اور نوک نہ جمانے کی کوشش میں زخمی ہوتی ہوں .
لیکن جانتی ہوں،  یہ زخم ہی اصل مرہم ہیں، بے اختیاری کا علاج اختیار کھو دینا تو نہیں.
جانے کتنے برس کی کتنی راتیں کٹتی جائیں گی...!
 میرے بہت سے عزیز سمجھتے ہیں کہ شاید میں جلد ہی تھک کر رابطہ منقطع کر دوں گی...!  
مگر پھر بھی میں کسی کو یہ نہیں سمجھا سکوں گی کہ رابطہ ختم کرنا ہی دراصل محبت کا بھرم رکھنا ہے. ♡


')