Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Sunday, August 26, 2018

ہم نے زیست رائیگاں گنوائی ہے ۔


ہم نے زیست رائیگاں گنوائی ہے ۔
ہم نے خواب دیکھنے کی سزا پائی ہے ۔
ہم بھی کتنے معصوم ہیں ۔
اس پرندے کی طرح ۔
جس کے پر نہ ہوں ۔
اور اونچی اڑان کا شوق ۔
اسے منہ کے بل گرا دیتا ہو بار بار ۔
ہم نے زیست رائیگاں گنوائی ہے ۔
ہم نے خواب دیکھنے کی سزا پائی ہے ۔
خواب دیکھنا بھی اک جرم ناقابل معافی ٹھہرا ۔
زیست کا نقصان ناقابل تلافی ٹھہرا ۔
جیسے صحرا میں کوئی بھٹکا راہی ۔
شام کے وقت غول سے بچھڑا پنجھی ۔
گرداب میں کوئی پھنسی کشتی ۔
ہم نے زیست رائیگاں گنوائی ہے ۔ہم نے خواب دیکھنے کی سزا پائی ہے ۔
اک دھند سی اتر آئی ہے چاروں طرف ۔
یاد آ گیا ہے کوئی بھولا بسرا ۔
جس کے سنگ چلاتے تھے خواب رستے ۔
جو شامل ہے اب بھی ہر دعا میں اپنی۔
پلکین نم ہیں اور کسی کی یاد کا عکس ۔
لے گیا ہے مجھے برسوں پیچھے ۔
کسی کی بانہوں کا حصار تھا خواب اپنا ۔
کسی کی آنکھوں کا خمار تھا خواب اپنا ۔
دیکھو کتنے معصوم سے تھے خواب اپنے ۔
جن کو کو نہ ہی سیم و زر خواہش تھی ۔
نہ ہی کچھ اور پانے کی لالچ
اور ہم نے ان معصوم خوابوں کے عوض ۔
عمر بھر رونے کی سزا پائی ہے ۔


No comments:

Post a Comment

')