Welcome to my blog!

Meet the Author

Blessed with the best _ Alhumdulillah!a million times for every blessing in my life.

Looking for something?

Subscribe to this blog!

Receive the latest posts by email. Just enter your email below if you want to subscribe!

Thursday, October 27, 2016

خواب میں کچھ اور تھا چہرہ تری تصویر کا





خواب میں کچھ اور تھا چہرہ تری تصویر کا


مہر برلب تھا مسافت میں بدن تعبیر کا


رنگ لاتا ہے بہرصورت لہو شبیر کا


سلسلہ در سلسلہ پھیلاؤ ہے زنجیر کا

ڈھونڈتا ہے کس گئی رُت کی رمیدہ خواہشیں


جبر کے سکرات میں افتادہ دل تقدیر کا

ایک ہالہ سا ملامت کا بنا رہتا ہے گرد


رُخ دمکتا ہی نہیں شادابیٔ توقیر کا

رات کی گہری سیاہی میں بھی مٹ جاتے ہیں نقش


دھوپ میں بھی رنگ اُڑ جاتا ہے ہر تصویر کا


جا نہیں سکتا کبھی شیشے میں بال آیا ہوا


مٹ نہیں سکتا لکھا انسان کی تقدیر کا


نااُمید آنکھوں کی تاریکی' دُعا کس سے کرے


کون ہے' کس نے جلانا اب دیا تاثیر کا


زندگی ایسی کئی قربان اس کی ذات پر


ہاتھ آ جائے کوئی نکتہ اگر تفسیر کا

کس کی جنبش کا تسلسل ہے زمیں سے تا اُفق


ہے معطر طاس' کس کی نگہتِ تحریر کا

قوتِ شوریدہ سے احمد کھلی چشمِ ہنر


کس تیقن سے ہوا مجرم قدم تاخیر کا


No comments:

Post a Comment

')